انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 393

۳۹۳ عقل کے بالکل برخلاف ہے- یہ بات تب درست ہو سکتی ہے اگر ہم مندرجہ ذیل امور کو صحیح سمجھ لیں جو ہرگز درست نہیں-(۱)بڑی اقلیت اور اکثریت میں اختلاف کا امکان بہ نسبت چھوٹی اقلیت کے کم ہوتا ہے- (۲)یکساں قواعد تجویز کرنے سے انصاف قائم ہو جاتا ہے- میں ان دونوں باتوں کو صحیح تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور نہ کوئی اور عقلمند انہیں صحیح تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو گا- پہلا دعویٰ اس لئے باطل ہے کہ اقلیت اور اکثریت میں جھگڑا اقلیت اور اکثریت کے سبب سے نہیں ہوتا بلکہ بعض ایسے اسباب کی وجہ سے ہوتا ہے جو دونوں کو مدمقابل پر لا کر عداوت پیدا کر دیتے ہیں- اور جب وہ اسباب پیدا ہوں تو خواہ اقلیت بڑی ہو یا چھوٹی، اکثریت اسے نقصان پہنچانا چاہتی ہے- اقلیت اور اکثریت کے ٹکرانے کے اسباب ان مختلف اسباب میں سے جو اقلیت اور اکثریت میں ٹکراؤ کرا دیتے ہیں مندرجہ ذیل اسباب بڑے بڑے ہیں- (۱)اقلیت قریب زمانہ میں پہلے حاکم رہی ہو- اور اس نے اکثریت پر ظلم کئے ہوں یا اکثریت کو یہ یقین دلا دیا گیا ہو کہ اس نے ظلم کئے ہیں ان دونوں صورتوں میں اکثریت کے ذہن پر یہ بات غالب ہوتی ہے کہ ہم نے ان لوگوں سے پچھلے بدلے لینے ہیں- (۲)اقلیت اپنی تہذیب اور اپنے تمدن میں اکثریت سے اعلیٰ اور اس پر غالب ہو- اس صورت میں بھی اکثریت چاہتی ہے کہ اقلیت کو تباہ کر دے- کیونکہ وہ ڈرتی ہے کہ اگر اسے ترقی کا موقع دیا گیا تو وہ ہماری تہذیب اور ہمارے تمدن کو تباہ کر دے گی- (۳)جب اقلیت میں کوئی ایسا امر پایا جائے جو اسے اکثریت میں جذب ہونے سے مانع ہو- اس وجہ سے اکثریت کو خوف ہوتا ہے کہ ہمیشہ ملک میں دو پارٹیاں رہیں گی- اور کسی وقت بھی ہمیں امید نہ ہو گی کہ اقلیت ہم میں جذب ہو کر ایک ہو جائے گی- یا جذب نہ ہو گی تو کمسے کم ہمارے ساتھ سموئی جائے گی اور اس کے ممتاز نشانات مٹ کر وہ ظاہر میں ہم سے متحد ہو جائے گی- (۴)جب اقلیت میں کوئی ایسی طاقت پائی جائے جس کی وجہ سے اکثریت کو خوف ہو کہ اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ کسی وقت اکثریت ہو جائے گی- (۵)جب اقلیت اپنے آپ کو ملک کا حصہ نہ قرار دے اور اس کی نظر ملکی حدود سے باہر