انوارالعلوم (جلد 10) — Page 392
۳۹۲ اور یہ کیسی سخت غلطی تھی کہ اطالوی حکومت کی خود اختیاری کا احترام کرتے ہوئے اسے اس معاہدہ سے مستثنیٰ کر دیا گیا تھا’‘- ۲۸؎ مجھے اس مثال کے بعد اور کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں- دنیا تسلیم کر چکی ہے کہ اقلیتوں کی حفاظت کی اشد ضرورت ہے- اٹلی جس میں اس امر کا لحاظ نہیں کیا گیا، اس جگہ اقلیتوں کی حالت باواز بلند دوسرے ایسے ہی ممالک کو کہہ رہی ہے کہ-: من نہ کردم شما حذر بکنید اب یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ وہ باوجود عبرت کے موجود ہونے کے فائدہ اٹھاتے ہیں یا نہیں- نہرو رپورٹ کے نزدیک اقلیتوں کو خاص حفاظت کی ضرورت نہیں جو کچھ میں اوپر لکھ چکا ہوں اس کے بعد اس کی ضرورت تو نہیں کہ میں نہرو رپورٹ کے دعویٰ کو پیش کر کے رد کروں- لیکن اس خیال سے کہ تفصیل شاید اس مسئلہ کو اور روشن کر دے، میں بتانا چاہتا ہوں کہ نہرو کمیٹی نے بھی اس امر پر زور دیا ہے اور کانگریس والے اور مہاسبھا والے بھی ہمیشہ اس امر پر زور دیتے چلے آئے ہیں کہ قلیل التعداد جماعتوں کو خاص حفاظت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب انصاف کے ساتھ قواعد بنائے جائیں تو ان کے ماتحت قلیل التعداد جماعتوں کو کسی نقصان کے پہنچنے کا احتمال نہیں ہوتا- یہ دلیل ہمیشہ ہندوؤں کی طرف سے پیش ہوتی چلی آئی ہے اور نہرو کمیٹی کے بین السطور سے بھی یہ صاف ظاہر ہے- بلکہ نہرو کمیٹی تو ایک عجیبنرالی منظق بھی چھانٹتی ہے - وہ لکھتی ہے کہ-: ‘’اگر قومی حفاظت کی ضرورت کسی جماعت کے لئے ضروری بھی ہو- تو اس کی ضرورت دو بڑی جماعتوں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے تو بالکل نہیں- اس کی ضرورت ان چھوٹی اقوام کے لئے تسلیم کی جاسکتی ہے جو سب ملکر ہندوستان کی دس فیصدی آبادی بنتی ہے’‘- ۲۹؎ گویا اول تو قلیل التعداد جماعتوں کی حفاظت کے قواعد کی ضرورت ہی نہیں- اگر ہو تو پھر بالکل چھوٹی جماعتوں کو ہے نہ کہ مسلمانوں کو- اس منطق کے سمجھنے سے میں قاصر ہوں اور یہ