انوارالعلوم (جلد 10) — Page 382
۳۸۲ ہوں، اس قدر ہندو ممبر کسی وقت بھی کرنے کے لئے تیار ہونگے- اور یہ اندازہ بھی درحقیقت تھوڑا ہے کیونکہ یہ فرض کر لینا کہ کوئی وقت ایسا آئے گا کہ سب کے سب پارلیمنٹ کے ممبر جمع ہو جائیں گے درست ہی نہیں- یورپ کی پارلیمنٹوں میں بھی ایسا نہیں ہوتا- سات سو کی تعداد میں سے کچھ بیمار ہونگے، بعض کے رشتہ دار بیمار ہونگے، بعض کو ایسے کام پیش آ جائیں گے جن کو چھوڑ کر وہ نہ آ سکیں گے- پس بیس فی صدی ممبروں کو غیر حاضر فرض کر لینا چاہئے- اور اس صورت میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے حاضر الوقت ممبروں میں سے ساٹھ فیصدی ممبروں کی تائید کی ضرورت ہوگی- میں پھر پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی مسلمان خواہ اس وقت وہ کس قدر ہی نہروکمیٹی کی تائید میں ہو یہ کہہ سکتا ہے کہ آج سے دس سال کے بعد اگر معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لئے مخلوط انتخاب مضر ثابت ہوا ہے- جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہونگے کہ ہندو اپنی تعداد سے زیادہ ممبریاں لے جاتے ہیں- یا ایسے مسلمان ممبر بھیج دیتے ہیں جو بجائے مسلمانوں کے فائدہ کے ہندوؤں کا فائدہ کریں، تو اس وقت خود ہندوؤں میں سے ۶۰ فیصدی ممبرپارلیمنٹ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس بات پر ووٹ دیں گے کہ ہندوؤں کو اس فائدہ سے روکا جائے اور مسلمانوں کو جداگانہ انتخاب کا حق دے دیا جائے- یا یہ کہ صوبہجات کو اندرونیمعاملات میں آزاد حکومت دے دی جائے- اگر نہیں اور ہر عقلمند کہے گا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، تو میں پوچھتا ہوں کہ جب بعد میں اپنے حقوق واپس لینے ناممکن ہونگے تو کیوں ابھی ان کے حصول پر زور نہ دیا جائے- زور سے اپنے مطالبات پورے کرانا دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان زور سے اپنے حقوق لے لیں- اس کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کیا مسلمان اپنے اندر وہ زور محسوس کرتے ہیں؟ اس وقت انگریز اس ملک پر حاکم ہیں اور وہ چونکہ غیر ملک کے باشندے ہیں، ان کی تعداد یہاں صرف چند لاکھ ہے- ہندو مسلمان دونوں ان سے حکومت واپس لینے پر متفق ہیں- مگر کیا باوجود اس کے ہمارا زور اس حد تک کارآمد ہوا ہے کہ فوراً حکومت کو بدل دیں- اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر اس وقت جب کہ ہندوستان کی حکومت ہندوستانیوں کے ہاتھ میں ہوگی- اور اس حکومت کی پہلی شکل کو قائم رکھنے کا فائدہ چند لاکھ نہیں بلکہ چھبیس کروڑ آدمیوں کو پہنچتا ہوگا کیا مسلمان کسی قسم کا بھی زور دکھا سکیں گے- پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ فوج مرکزی حکومت کے قبضہ میں ہوگی اور یہ خیال