انوارالعلوم (جلد 10) — Page xlii
انوار العلوم جلد ۔) ٣٣ تعارف کتب سے اپنے تناسب کے لحاظ سے بہت کم نمائندگی ملی۔ اس موقع پر بھی حضور نے مسلمانوں کو ہوشیار کیا تھا۔ اب مزید الجھن یہ پیدا ہوئی کہ کمیٹی کے مسلمان ممبروں نے تعاون کے پیش نظر یہ تجویز قبول کرلی کہ پنجاب کونسل کل ایک سو پینسٹھ (۱۶۵) ممبروں پر مشتمل ہو اور ان میں سے تراسی (۸۳) ممبر مسلمان ہوں اور باقی ہندو، سکھ اور عیسائی وغیرہ۔ اس تجویز کے نتیجہ میں مسلمانوں کی پچپن فیصدی کی اکثریت اکاون فیصدی ہو جاتی تھی۔ اس طرح پنجاب کے مسلمانوں کو سیاسی لحاظ سے نقصان پہنچتا تھا۔ اس لئے حضور نے کمیٹی کی تجویز کے خلاف یہ مضمون تحریر فرمایا۔ جو الفضل مورخہ ۳۰ اگست ۱۹۲۹ء کے علاوہ دیگر اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ حضور نے فرمایا کہ میرے نزدیک مسلمان ممبران کمیٹی کو بعض اصولی غلط فہمیاں ہوئی ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے ایسی سخت غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کو یقین دلایا گیا کہ گورنمنٹ موجودہ صورت میں ان کی تائید کرے گی۔ اس خیال سے کہ ان کے مطالبات ضرور منظور ہو جائیں اور کم سے کم وہ اکثریت جو اب غیر مسلموں کو حاصل ہے دور ہو جائے انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا۔ حضور نے فرمایا کہ اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس غلطی کا ازالہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ آپ نے تحریر کیا کہ اس کے ازالہ کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ا۔ کمیٹی کے مسلمان ممبر سائمن کمیشن کو مطلع کریں کہ اس تجویز کو صرف ہماری ذاتی رائے قرار دیا جائے کیونکہ مسلمان اکثریت اس کے مخالف ہے۔ ۲- اگر وہ ایسا نہ کریں تو پنجاب کونسل کے دوسرے مسلمان ممبر ایک میموریل تیار کرکے سائمن کمیشن اور گورنمنٹ کو ارسال کریں کہ ہماری رائے میں مسلمان نمائندوں نے ہماری نمائندگی نہیں کی بلکہ اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے۔ مسلمان اس تجویز کو قبول نہیں کرسکتے۔ ۔ مختلف سیاسی انجمنیں اور نمائندہ جماعتیں بھی ایسے ریزولیوشن پاس کرکے بھجوائیں تاکہ مسلمانوں کی صحیح ترجمانی ہو جائے۔ آخر میں حضور نے کمیٹی کی ایک مفید تجویز کی تائید کرتے ہوئے فرمایا :- ایک اور تجویز ہے جس کے خلاف مسلمان اخبارات نے آواز اٹھائی ہے۔ اور وہ کمیٹی کی یہ تجویز ہے کہ ایک حصہ مرکزی مجلس کا صوبہ جات کی کونسلوں کے توسط سے چنا جائے۔ میں اس امر میں ان اخبارات کی رائے سے متفق نہیں میرے نزدیک انہوں نے غور نہیں کیا کہ صوبہ جات کی