انوارالعلوم (جلد 10) — Page 376
۳۷۶ ہونگے کہ آہستہ آہستہ مسلمانوں کو ان کے مذہب سے بالکل بیگانہ کر دیا جائے- ہر مذہب اور ہر مذہبی سکول کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ہم مذہبوں پر مذہبی تعلیم کے لئے زور دے سکے- اور یہ جبر نہیں ہے جبر یہ ہے کہ انسان دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب کی تعلیم پر مجبور کرے- پس یہ قانون کئی رنگ میں مسلمانوں کو مذہبی تعلیم سے روکنے کا موجب بنایا جا سکتا ہے- یہ کہنا کہ ہندوؤں پر بھی اس کا یکساں اثر پڑے گا، مذاہب کی کامل ناواقفیت پر دلالت کرے گا- کیونکہ اسلام ایک مقررہ حدود والا مذہب ہے- جس کے جاننے کے لئے باقاعدہ تعلیم کی ضرورت ہے- اس کے مقابلہ میں ہندو مذہب ایک سیاسی مذہب ہے- اور وید اور اس کی تعلیم سے بالکل بے بہرہ شخص اپنے پاس سے کچھ خیال تجویز کر سکتا ہے- اور پھر اسی طرح ہندو کہلا سکتا ہے جس طرح ویدوں کا سب سے بڑا عالم- مطالبہ ہفتم اور نہرو کمیٹی کا فیصلہ ساتواں مطالبہ یہ کہ وہ سوالات جو قومی بے اعتباری سے پیدا ہوتے ہیں، اور جن کا حل کرنا اقلیتوں کی حفاظت کیلئے ضروری ہے، انہیں قانون اساسی میں اسی طرح داخل کیا جائے کہ اس کا بدلنا آسان کام نہ ہو- میں نہیں جانتا کہ ہماری جماعت کے سوا کسی اور جماعت کی طرف سے بھی یہ مطالبہ پیش ہوا ہے- یا نہیں- مگر بہرحال یہ اہم ترین مطالبات میں سے ہے- اور اس کی طرف بھی نہرو کمیٹی نے توجہ نہیں کی- اس مطالبہ کی طرف ایک رنگ میں لکھنؤ پیکٹ (LUCKNOWPACT) میں اشارہ ضرور تھا- مگر وہ مطالبہ قانونی زبان میں نہ تھا- مبہم الفاظ میں تھا- مذکورہ بالا بیان سے یہ بات ظاہر ہو چکی ہے کہ سات مطالبات میں سے جو مسلمانوں کی طرف سے ہوئے ہیں- ایک مطالبہ بھی ایسا نہیں- جسے نہرو کمیٹی نے پورے طور پر منظور کر لیا ہو بلکہ بعض کو بالکل رد کر دیا ہے اور بعض کو ناقص طور پر قبول کیا ہے- اور عجیب بات یہ ہے کہ نقص ہمیشہ اسی حصہ میں واقع ہوا ہے جس سے اس مطالبہ کی اصل غرض فوت ہو جاتی ہے- اور اس کا قبول کرنا نہ کرنا برابر ہو جاتا ہے- اب سوال ہے کہ جب نہرو کمیٹی نے ان شرطوں کو بھی رد کر دیا ہے جن کو مسلمانوں میں سے نرم سے نرم جماعت نے آخری شرطیں قرار دیا تھا- تو کیا ایسا فیصلہ انصاف کا فیصلہ کہلا سکتا ہے- اور کیا اسے قبول کر کے مسلمان ہندوستان میں امن سے رہ سکتے ہیں؟ جہاں تک میں نے غور کیا ہے، ہر گز نہیں- اور میں اگلے حصہ مضمون میں