انوارالعلوم (جلد 10) — Page 375
۳۷۵ اسی طرح اس میں مذہب کی تبلیغ کے متعلق کچھ ذکر نہیں- یہ قانون ہر شخص کو صرف یہ حق دیتا ہے- کہ وہ اپنے مذہب کا آزادی سے اظہار کرے- مگر اس امر کا حق نہیں دیتا کہ کوئی شخص دوسرے کو آزادی سے تبلیغ کر سکے- قانون کسی وقت کہہ سکتا ہے کہ چونکہ تبلیغ سے فساد ہوتا ہے- اس لئے ہم اس سے روکتے ہیں تم اپنے مذہب کا اظہار کر سکتے ہو لیکن دوسرے شخص کو اس کی دعوت نہیں دے سکتے- اسی طرح قانون کسی وقت کہہ سکتا ہے کہ چونکہ مذہب کی تبدیلی سے فساد ہوتے ہیں، ہم مذہب کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے- ضمیر کی آزادی کا قانون اس کو نہیں روک سکتا- کیونکہ ضمیر کی آزادی صرف عقیدہ سے تعلق رکھتی ہے- اور مذہب کی تبدیلی ایک قوم کو چھوڑ کر دوسری میں شامل ہونے کا نام ہے- اور اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی مثلاً یہ قانون بنایا جا سکتا ہے کہ مجسٹریٹ کے سرٹیفکیٹ کے بغیر کوئی شخص مذہب تبدیل نہیں کر سکتا- اور اس کی وجہ یہ بتائی جائے کہ اس طرح جبر وغیرہ نہ ہو سکے گا- اور اس طرح تبدیلی مذہب کا سلسلہ روک دیا جائے- جیسا کہ آج کل کئی ریاستوں میں ہو رہا ہے- اول تو اس قدر لمبی مصیبت کو لوگ برداشت نہیں کرتے- اور اگر درخواست دیں تو پھر پوچھا جاتا ہے کس نے تبلیغ کی، کس طرح کی، کوئی دباؤ تو نہیں؟ اور اسی قسم کے سوالات میں اسے پھنسا کر تبدیلیمذہب سے روک دیا جاتا ہے- اس کی مثالیں موجود ہیں اور میں اس امر کو ثابت کر سکتا ہوں- غرض اسی قسم کے کئے رخنے ہیں جو قانون مذہب میں موجود ہیں- اور جن کے ذریعہ سے مذہبیآزادی کو نہایت محدود کیا جا سکتا ہے- پس نہرو رپورٹ مسلمانوں کے مطالبات کو اس جہت سے بھی قطعاً پورا نہیں کرتی- بلکہ میں تو کہتا ہوں وہ اس مطالبہ کے بالکل الٹ جاتی ہے وہ مذکورہ بالا عنوان کے بارہویں مادہ میں کہتی ہے کہ-: ‘’کوئی شخص جو ایسے سکول میں تعلیم پا رہا ہو جسے گورنمنٹ امداد حاصل ہو یا پبلک کے روپیہ سے کسی اور طرح فائدہ اٹھا رہا ہو، اسے ایسی مذہبی تعلیم کے حصول پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جو سکول میں دی جاتی ہو’‘- اس مادہ کے ساتھ ذرا اس امر کو بھی ملا لو کہ ہندوستان کی آئندہ گورنمنٹ اگر یہ قانون بھی پاس کر دے کہ کوئی پرائیویٹ سکول جو گورنمنٹ ایڈ (GOVERNMENTAID) لیکر گورنمنٹ کے قانون کا پابند نہ ہو، منظور نہیں کیا جا سکتا- تو اس قانون کے پاس ہونے میں قانون اساسی ہر گز روک نہیں بن سکتا- اور اگر ایسا قانون پاس ہو جائے تو اس کے یہ معنی