انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 369

۳۶۹ ہوگی- لیکن اگر اصل اختیارات مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہیں- تو پھر اس احتیاط سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے- جب مرکزی حکومت ہر وقت دخل دے سکتی ہے تو جس وقت وہ چاہے گی مسلمانوں کے صوبوں کے معاملات میں دخل دے دے گی- اگر کہو کہ ایسا کیوں کرے گی- تو میں کہتا ہوں کہ اصل سوال تو ہے ہی یہی کہ دونوں قوموں کو ایک دوسرے پر بے اعتباری ہے- اگر بے اعتباری نہیں تو یہ سب شرطیں اور پابندیاں لگائی ہی کیوں جاتی ہیں- صاف کہدو کہ ہمیں اپنے ہندو بھائیوں پر اعتبار ہے- وہ جس طرح چاہیں حکومت کریں- ہمیں ان سے ہر ایک طرح نیک امید ہے- اس نتیجہ پر پہنچ جاؤ تو آج ہی سب جھگڑے کا فیصلہ ہو جاتا ہے- اسی وقت ہندو اٹھ کر آپ لوگوں کو گلے لگا لیں گے- مطالبہ دوئم کے متعلق نہرو کمیٹی کا فیصلہ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ جس جس صوبہ میں اقلیت نہایت کمزور ہو، وہاں اسے اپنے اصل حق سے زائد حق دیا جائے- اور جس جگہ اقلیت کمزور نہ ہو، وہاں اقلیت کو زائد حق نہ دیا جائے- نہرو رپورٹ کا فیصلہ یہ ہے کہ زائد حق کسی جگہ بھی نہ دیا جائے- نہ اس جگہ جہاں اقلیت کم ہو اور نہ وہاں جہاں طاقتور ہو- چنانچہ رپورٹ میں لکھا ہے- ‘’تعداد آبادی کی نسبت سے زائد نمائندگی جو لکھنؤ کے معاہدہ اور مانٹیگ چیمسفورڈ سکیم ۱۳ (MONTAGUECHELMSFORDSCHEME)؎ کے مطابق مسلمانوں کو بعض صوبوں میں دی گئی تھی، وہ ہماری سکیم کے مطابق واپس لے لی جائیگی’‘- ۱۴؎ گویا اس مطالبہ کو بھی کلکتہ اور لاہور لیگ کا مشترکہ تھا، رد کر دیا گیا ہے- جس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہیں کہ مسلمانوں نے چونکہ پنجاب اور بنگال میں بوجہ تعداد میں زیادہ ہونے کے ہندوؤں کی حکومت سے انکار کیا تھا- اس کے بدلہ میں دوسرے صوبہ کے مسلمانوں کو نمائندگی کی ایک قلیل زیادتی سے محروم کر دیا جائے- جس سے وہ حاکم نہیں بنتے تھے- صرف اتنا تھا کہ مختلف جماعتوں اور سیاسی انجمنوں کی نیابت آسانی سے صوبوں کی حکومت میں ہو سکتی تھی- اسی مطالبہ کے ضمن میں مسلمانوں کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ مرکزی حکومت میں بجائے پچیس فیصدی کے مسلمانوں کو ۳۳ فی صدی نمائندگی کا حق دیا جائے تاکہ مختلف صوبوں سے