انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 368

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۶۸ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح طرح چلنے کے لئے ان تمام امور کے متعلق جو اس قانون کے مطابق صوبوں کی کو نسلوں کے سپرد نہیں کئے گئے ۔ " اس فقرہ سے ظاہر ہے کہ آئندہ حکومت ہند میں صوبوں سے مرکزی حکومت کو اختیارات نہیں دیئے گئے۔ بلکہ مرکزی حکومت کی طرف سے صوبوں کو اختیارات دئے گئے ہیں۔ اسی طرح صوبہ جات کی مجالس واضع قوانین کے عنوان کے نیچے مادہ تھیں (۳۰) کے ماتحت لکھا ہے۔ صوبہ کی آمد میں سے بادشاہ کو گورنر صوبہ کی تنخواہ کے طور پر ۔۔۔۔ سالانہ رقم ادا کی جائے گی جو کہ جب تک کامن ویلتھ کی پارلیمنٹ کوئی دوسرا فیصلہ نہ کرے۔ اس قاعدہ کے مطابق ہوگی۔ جو ساتھ درج ہے ۔ " لاء اس قاعدہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ صوبہ جات کی مجالس کو مرکزی مجلس کے ماتحت رکھا گیا ہے۔ اور واضح حوالہ سول سروس کے عنوان کے نیچے ملتا ہے۔ اس عنوان کے نیچے (AL) اکیا سیویں مادہ کے ماتحت لکھا ہے۔ پارلیمنٹ قانون بنانے کا اختیار اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر اور معین کردہ امور )GOVERNER GENERALIN COUNCIL( کے متعلق گورنر جنرل ان کو نسل یا صوبہ جات کی گورنمنٹوں کو بھی دے سکتی ہے ۔ " ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ نہرو کمیٹی نے جو قانون اساسی حکومت ہند کے لئے تجویز کیا ہے، وہ مسلمانوں کے مجموعی مطالبہ کے بالکل مخالف ہے۔ مسلمانوں کا مطالبہ فیڈرل یا اتحادی گورنمنٹ کا تھا۔ جس میں کہ سب صوبے آزادانہ حکومت رکھتے ہوں اور وہ اپنی مرضی سے بعض ایسے اختیارات جو بغیر مرکزی حکومت کی موجودگی کے نہیں برتے جاسکتے۔ ایک مرکزی حکومت کو تفویض کر دیں۔ اور مرکزی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہ ہو کہ وہ صوبہ جات کے اندرونی انتظام میں کسی قسم کا بھی دخل دے سکے ۔ یہ ظاہر ہے کہ بغیر اس قسم کی گورنمنٹ کے مسلمانوں کو ہندوستان میں امن نہیں حاصل ہو سکتا۔ اگر مسلمانوں کا مطالبہ سندھ صوبہ سرحدی اور بلوچستان کا اختیار حاصل کرنے کا ہے محض اس لئے کہ ہندوؤں کو اس وجہ سے ان صوبوں میں مسلمانوں پر ظلم کرنے کا خیال پیدا نہیں ہو سکے گا جہاں مسلمان کم ہیں۔ کیونکہ مسلمان آزاد صوبوں میں بھی ہندو آبادی بس رہی