انوارالعلوم (جلد 10) — Page 364
۳۶۴ ممبر اس کے نفاذ کے حق میں رائے دے دیں- اگر یہ شرط نہ لگائی گئی تو ہندوؤں کو ہر وقت اختیار ہوگا کہ اپنی اکثریت کے زور سے قانون کو بدل دیں اور ان حفاظتی تدابیر کو منسوخ کر دیں- جنہیں قانوناساسی کے بناتے ہوئے مسلمانوں کی خاطر منظور کر لیا جائے- کلکتہ لیگ کے مطالبات کلکتہ لیگ جس کی نمائندگی کا نہرو کمیٹی کو دعویٰ ہے اس کا فیصلہ یہ تھا کہ اس کے نمائندے کانگریس کے ساتھ قانون اساسی بنانے میں شریک ہوں مگر ان امور کا خیال رکھیں کہ ۱- سندھ ایک مستقل اور خود مختار صوبہ بنایا جائے- ۲- صوبہ سرحدی اور بلوچستان میں بھی اصلاحات جاری کی جائیں اور باقی صوبوں کے برابر اختیارات ان کو بھی دیئے جائیں- ۳- موجودہ حالات میں مختلف صوبہ جات میں جدا گانہ انتخاب مسلمانوں کی نمائندگی کیلئے ضروری ہے- اور مسلمان اس حق کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ سندھ کو ایک مستقل اور خود مختار صوبہ نہ بنا دیا جائے اور صوبہ سرحدی اور بلوچستان میں اصلاحات نہ جاری کر دی جائیں- جب یہ شرطیں مکمل طور پر پوری ہو جائیں- تب مسلمان جداگانہ انتخاب کو مشترکہانتخاب کے حق میں چھوڑنے کیلئے تیار ہونگے مگر اس شرط سے کہ آبادی کی تناسب سے ہر قوم کی نیابت محفوظ ہو- سوائے ان صورتوں کے جو ذیل میں درج ہے-: الف-: صوبہ سرحدی، بلوچستان اور سندھ میں مسلمان ہندوؤں کو ان کے جائز حقوق سے زیادہ اسی قدر حق دیں گے- جس قدر زائد حقوق کہ ہندو دوسرے صوبوں میں جن میں ان کی اکثریت ہوگی مسلمانوں کو دیں گے- ب- مرکزی حکومت میں موجودہ نیابت سے کم مسلمانوں کو نہ ملے گی- اس کے علاوہ لیگ نے مدراس کانگریس کے فیصلہ کو جو حریت ضمیر مذہبی قانون سازی اور گائے اور باجہ کے سوال کے متعلق تھا- قبول کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اسے بھی اوپر کے ریزولیوشن کے ساتھ شامل کیا جائے- بعض امور جو دوسری پارٹی کے مطالبات میں ہیں وہ اس میں چھوڑ دیئے گئے ہیں- لیکن