انوارالعلوم (جلد 10) — Page 359
۳۵۹ قوانین بناتے ہوئے مسلمانوں کے احساسات کا خیال کب رکھا جائے گا مگر بہرحال چونکہ رپورٹ ہمارے سامنے آ گئی ہے- اس لئے اس کے حسن و قبح کا دیکھنا بھی ضروری ہے- اور میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اس پر غور کرنے کے بعد بھی میں اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سکیم ہر گز ملک کیلئے مفید نہیں ہو سکتی- خصوصاً مسلمانوں کو تو اس سے سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے- مسلمانوں کے مطالبات اور ان کے بواعث پیشتر اس کے کہ میں نہرو رپورٹ کی تجاویز پر بحث کروں- میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے مطالبات کیا ہیں اور کیوں ہیں- میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اس وقت مسلمانوں میں سیاسی نقطہ نگاہ سے دو پارٹیاں ہیں- ایک پارٹی جو زیادہ تر پنجاب اور یو-پی کے مسلمانوں پر مشتمل ہے- اس کے اصولی مطالبات جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ ہیں کہ آئندہ ہندوستان کیلئے جو قانون اساسی تیار ہو- اس میں ان امور کو مدنظر رکھا جائے- پہلا مطالبہ، اتحادی حکومت پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کا طریق فیڈرل (FEDERAL) یا اتحادی ہو- یعنی تمام صوبہ جات کامل طور پر خود مختار سمجھے جائیں- برطانیہ جس قدر اور جس وقت اپنا قبضہ کم کرتا جائے- اس کے چھوڑے ہوئے اختیارات مختلف صوبہ جات ملک کو ملتے جائیں- ہاں چونکہ ملک کے انتظام کے لئے ایک مرکزی نظام کی بھی ضرورت ہے- جو امور مشترک ہوں وہ ہندوستانی مرکزی حکومت کے سپرد صوبہ جات کی طرف سے کئے جائیں- گویا یہ نہ سمجھا جائے کہ ہندوستانی مرکزی حکومت صوبہ جات کو اختیار دیتی ہے- بلکہ یہ سمجھا جائے کہ صوبہ جات ایک منظم گورنمنٹ کے چلانے کے لئے اپنے بعض اختیارات ایک مرکزی حکومت کو دیتے ہیں- اگر اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے جو ایک مجرب اصل ہے- اور امریکہ کی ریاست ہائے متحدہ، سوئٹزرلینڈ، ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا میں نہایت کامیاب صورت میں جاری ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فارن معاملات، افواج کے انتظام، ڈاک خانہ، کسٹمز وغیرہ کے علاوہ باقی سب معاملات کا فیصلہ ہر صوبہ کی کونسلیں اپنی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کریں گی- اور مرکزی حکومت کو ان کے کاموں میں دخل اندازی کا حق نہ ہوگا- مسلمان اس مطالبہ کو اس لئے پیش کرتے ہیں کہ ہر قوم کو اپنے طور پر ترقی کرنے کا