انوارالعلوم (جلد 10) — Page 343
۳۴۳ مطلب ہے کہ ان کا عقیدہ حقیقت میں ختم نبوت کے خلاف ہے اور اس قسم کے حقائق کے اظہار سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم کسی کو فی الواقعہ اس عقیدہ کا منکر قرار دے دیں- پس چونکہ غیر احمدی تسلیم کرتے ہیں کہ رسول اللہ خاتم النبین ہیں اس لئے ہم بھی انہیں خاتمالنبین کا ماننے والا قرار دیتے ہیں- اگر مولوی صاحب یہ فرمائیں تو میں ان سے سوال کروں گا کہ جب کہ نئے اور پرانے نبی کی آمد کے معتقدوں کو وہ خود برابر قرار دے چکے ہیں اور ان عقیدوں میں انہیں کچھ فرق نظر نہیں آیا تو یہی وسعت حوصلہ انہوں نے ہمارے حق میں کیوں نہ دکھائی؟ کیا انہیں کوئی ایسی تحریر میری ملی تھی جس میں میں نے یہ لکھا تھا کہ ہم رسول کریم صلیاللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے- نعوذ باللہ من ذلک- اور اگر ایسی کوئی تحریر انہیں نہیں ملی بلکہ انہوں نے ہمارے عقائد پر قیاس کیا تھا اور ان کے نزدیک ہم اور غیر احمدی جیسا کہ ان کی تحریرات سے میں ثابت کر چکا ہوں، ایک ہی کشتی میں سوار ہیں اور دونوں بقول ان کے صرف منہ سے ختم نبوت کے اقراری ہیں تو پھر انہوں نے دونوں سے سلوک میں فرق کیوں کیا؟ اور ایک کو ختم نبوت کا ماننے والا اور ایک کو منکر کیوں قرار دیا اور حضرت مسیحموعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فیصلہ کو کیوں طاق نسیاں پر رکھ دیا کہ ‘’پرانے اور نئے نبی کی تفریق کرنا شرارت ہے’‘- حق یہ ہے کہ مولوی صاحب اور ان کے رفقاء دل میں تو دونوں ہی کو خاتم النبین کا ماننے والا ہی سمجھتے ہیں اور اپنی پہلی تحریروں میں دونوں ہی کو منکر قرار دے چکے ہیں- لیکن اس موقع پر اس خوف سے کہ کہیں ۱۷-جون کے جلسوں کی تحریک کامیاب نہ ہو جائے انہوں نے یہ درمیانی راستہ نکالا کہ جو کثیر التعداد جماعتیں ہیں اور جن سے انہیں چندے ملتے رہتے ہیں، انہیں تو انہوں نے اپنی پہلی تحریروں کے خلاف ختم نبوت کا ماننے والا قرار دے لیا اور ہم لوگ جو تعداد میں تھوڑے ہیں اور ہم سے کچھ وصول ہونے کی امید نہیں ہے، ہمیں انہوں نے ختم نبوت کا منکر قرار دے لیا- لیکن حق یہ ہے کہ گو ہم میں سے ہر ایک کا یہ حق ہے کہ وہ دوسرے کی نسبت یہ کہہ دے کہ اس کا عقیدہ حقیقت ختم نبوت کے منافی ہے- لیکن جو شخص کہتا ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی فرقہ بھی ایسا ہے کہ وہ ختم نبوت کا ایسے رنگ میں منکر ہے کہ اس کا حق ہی نہیں کہ وہ دوسرے مسلمانوں سے مل کر رسولکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قیام کے لئے کوشش کر سکے، وہ جھوٹا اور مفتری ہے اور اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کا ذمہ دار ہے-