انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 342

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۲۲ اظهار حقیقت سے نہیں بلکہ براہِ راست اللہ تعالی سے تعلیم حاصل کی ہے، وہ اس امت کے معلم بنیں گے اور یوں آنحضرت مسی کی شاگردی سے یہ امت نکل جائے گی۔ کا ۲ جول صلی اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اول مولوی صاحب کے نزدیک عام مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے عقیدہ کے مقابل پر ہے۔ یعنی متضاد اور مخالف ہے۔ دوم۔ مولوی صاحب کے نزدیک یہ عقیدہ کہ کوئی پرانا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی نیا نبی آئے گا ان میں کچھ فرق نہیں۔ یہ دونوں عقیدے ایک ہی طرح ختم نبوت کے عقیدہ کو رو کرنے والے ہیں۔ سوم۔ مسلمانوں کے عقیدہ نزولِ مسیح کی رو سے امتِ محمدیہ امتِ محمدیہ نہ رہے گی۔ یعنی رسول کریم مسلم کی نبوت ختم ہو جائے گی۔ اب اس عقیدہ کے بعد مولوی صاحب ۲ جولائی ۱۹۲۸ء کے پیغام صلح میں یہ فرمانا کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ نبوت آنحضرت سی پر ختم ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا صرف ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑ کانے کے لئے ایک چال اور خلاف ضمیر عقیدہ کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا یہ غضب نہیں کہ ابھی کچھ کچھ عرصہ پہلے تو مولوی صاحب کے نزدیک تمام مسلمان ختم نبوت نبوت کے منکر تھے اور ان کے عقائد امت محمدیہ کو آنحضرت میں ایم کی امت سے نکال رہے تھے ۔ لیکن ۱۷۔ جون کے جلسہ کی تحریک کا ہونا تھا کہ مولوی صاحب کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہو گیا کہ سب مسلمان تو ختم نبوت کے قائل ہیں اور یہ مبائع احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں۔ ان کے ساتھ مل کر کہیں دوسروں کے بھی عقیدے خراب نہ ہو جائیں۔ کیا یہ تغیر غیر معمولی نہیں ہے کیا یہ تبدیلی موجب حیرت نہیں ہے؟ کیا اس کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ مولوی صاحب مجھ سے بغض کی وجہ سے اس تحریک کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ اور رسول کریم مسلم کی محبت پر جو ان کے دل میں یقیناً ہوگی، ایک ساعت کے لئے میرا بغض غالب آگیا۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ میں تو اب بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ انہیں اس امر سے محفوظ رکھے کہ ان کا دل ہمیشہ کے لئے ان کے جرم کی سزا میں محبت رسول سے محروم رہ جائے۔ شاید مولوی صاحب یہ فرمائیں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ مسیح کے نزول کو مانا ختم نبوت کے خلاف ہے اور گو میں نے بھی اس عقیدہ کی تصدیق کی ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقعہ وہ لوگ ختم نبوت ۔ نبوت کے منکر ہیں بلکہ صرف یہ