انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxviii of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxviii

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۹ تعارف کتب ایسے کامل اور اعلیٰ رنگ میں پیش کیا کہ جس کی اور کہیں مثال نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ آپ کی اس عظیم کامیابی کی وجہ سے مخالف بھی آپ کی عظمت اور بزرگی کو تسلیم کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے لوگوں کو توحید کامل کی تعلیم دی۔ فرمایا کہ اصل توحید یہ ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے کامل اتحاد اور وصال ہو جائے جب کوئی خدا تعالی کو پالے تو اسے توحید کامل حاصل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں اس کی اپنی خواہشات، اپنا وجود مٹ جاتا ہے اور خدا ہی خدا باقی رہ جاتا ہے۔ توحید کے معنی ہیں خدا کو ایک بتانا اور ایک قرار دینا۔ یعنی اپنی زبان کے اقرار کے علاوہ اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کرنا کہ خدا ہی خدا ہے اور کچھ نہیں۔ آنحضرت نے اپنی زبان اور عمل دونوں سے توحید کو دنیا میں قائم کرکے دکھا دیا تاکہ لوگ آپ کے اُسوہ پر چل کر توحید کامل حاصل کر سکیں۔ مضمون کا دوسرا حصہ یعنی رسول کریم ال کی غیر مذاہب کے بارہ میں تعلیم اور تعامل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ آنحضرت ا نے واضح طور پر تعلیم دی ہے کہ کسی کی خوبی کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ جو شخص کہتا ہے کہ دوسرے مذاہب میں کوئی خوبی نہیں وہ غلطی کرتا ہے۔ یہ اصول پیش کرکے آپ نے تمام قوموں پر بڑا احسان کیا ہے کہ اس طرح ان کے باہمی تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔ پھر آپ نے تعلیم دی کہ سب اقوام میں نبی آئے ہیں۔ اس طرح گویا سب مذاہب کی بنیاد کو درست تسلیم فرمالیا اور اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ سب اقوام کے ان انبیاء کی سچائی کو تسلیم کرو اور ان پر اجمالی طور پر ایمان لاؤ۔ یہ ایک بہت بڑا حق ہے جو آنحضرت ا نے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو دیا۔ ایک اصولی تعلیم آپ نے یہ دی کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ نہ کیا جائے۔ صرف حملہ آور کا دفاع کیا جاسکتا ہے۔ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ آپ نے مسلم اور غیر مسلم کے تمدنی حقوق ایک قرار دیئے۔ تمدنی سلوک کے بارہ میں سب کو برابر قرار دیا۔ غلاموں کی آزادی کی آپ نے آواز اٹھائی تو اس سلسلہ میں بھی مسلم اور غیر مسلم کا فرق ملحوظ نہیں رکھا۔ اسی طرح ہمسائیوں کے بارہ میں بھی کوئی امتیاز روا نہیں رکھا۔ سب سے حسن سلوک کی تعلیم دی۔ آخر میں غیر مذہب والوں سے نبی کریم ﷺ کے حسن سلوک کے سلسلہ میں حضور نے فتح مکہ کے حالات بیان فرمائے کہ کس طرح آپ نے جانی دشمنوں اور