انوارالعلوم (جلد 10) — Page 335
۳۳۵ گزارہ ہی ان لوگوں کے چندوں پر چلتا ہے ورنہ ان کے اپنے ہم عقیدہ معدودے چند آدمی ہیں- پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا مولوی صاحب اسی فتویٰ کو جو انہوں نے ہم پر چسپاں کیا ہے کچھ اور لوگوں پر بھی چسپاں کریں گے- اگر وہ اس کے لئے تیار ہیں تو سنیں کہ حضرت عائشہ ؓ کا وہی مذہب ہے جو میرا ہے- وہ فرماتی ہیں-قولوا انہ خاتم النبین ولا تقولوا لا نبی بعدہ ۳؎یہ تو کہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں- مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں- اب مولوی صاحب یہ فرمائیں کہ کیا حضرت عائشہ ؓ کی نسبت بھی وہ یہ اعلان کریں گے کہ وہ خاتم النبین کی منکر تھیں اور لا نبی بعدہ کہنے سے منع کر کے جو انہوں نے خاتم النبین کہنے کی تعلیم دی ہے یہ محض نعوذ باللہ من ذلک لوگوں کو دھوکا دیا ہے- مولوی صاحب نے اپنی کتاب ‘’النبوۃ فی الاسلام’‘ میں اس احتمال کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ قول حضرت عائشہ ؓ کا ہو سکتا ہے لیکن یہ کہا ہے کہ اس صورت میں یہ قول ان کا مردود ہوگا-۴؎ مگر یہ فتویٰ نہیں دیا کہ میں پھر حضرت عائشہ ؓ کو دھوکا باز کہوں گا- اور کہوں گا کہ خاتمالنبین کہنے میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہی تھیں- اسی طرح کیا مولوی صاحب ان بیسیوں بزرگان اسلام کو جنہوں نے غیر تشریعی نبوت کا دروازہ کھلا تسلیم کیا ہے ختم نبوت کا منکر قرار دیں گے اور سب کی نسبت یہ اعلان کریں گے کہ وہ دھوکا باز تھے اور لوگوں کو فریب دے رہے تھے- اور تو خیر میں پوچھتا ہوں کہ مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند جنہوں نے اپنے متعدد رسالوں میں غیر تشریعی نبوت کو جائز قرار دیا ہے کیا مولوی صاحب ان کی نسبت یہ اعلان کریں گے کہ وہ ختم نبوت پر ایمان لانے کے دعویٰ میں جھوٹے تھے اور دنیا کو فریب دے رہے ہیں- اگر باوجود ان تشریحات کے مولوی صاحب ان کو دھوکا باز نہیں کہتے بلکہ نہیں کہہ سکتے تو پھر اس عقیدہ کی بناء پر مولوی صاحب مجھے اور باقی احمدی جماعت کو دھوکا باز کس طرح کہہ رہے ہیں اور کیا ان کا یہ فعل خود دھوکا نہیں- اور اس وجہ سے نہیں کہ وہ اصل میں یہ چاہتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظیم الشان خدمت جو ۱۷- جون کے جلسوں کی شکل میں ظاہر ہوئی مجھ سے اور میرے احباب کے ذریعہ سے نہ ہو- گویا ان کا دل میرے کینہ سے اس قدر بھرا ہوا ہے کہ وہ اس کو تو پسند کر لیتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لئے