انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxvii
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۸ ہو گیا۔ جہاں جہالت کے بادل چھا رہے تھے وہاں علم کا سورج چمکنے لگا۔ دنیا نے اس معجزانہ تغیر پر نظر ڈالی جو محمد رسول اللہ کی بے نفس جدوجہد نے پیدا کر دیا تھا اور بے اختیار ہو کر چلا اٹھی کہ بے شک تو نبی ہے بلکہ نبیوں کا سردار - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ۔ تعارف کتب (19) توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت اللہ کی تعلیم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے سیرۃ النبی ﷺ کے جلسے ہر سال منعقد کرنے کی جو عالمگیر تحریک فرمائی وہ بفضل خدا بہت مقبول ہوئی اور ملک کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا موجب بنی۔ ۱۹۲۹ء میں حضور نے اس غرض کیلئے ۲ جون کی تاریخ مقرر فرمائی کہ اس دن ہر جگہ جلسے کئے جائیں اور آنحضرت ا کی سیرت پاک بیان کی جائے۔ حضور نے ان جلسوں میں تقاریر کے دو موضوع بھی مقرر فرمائے۔ 1- توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت ﷺ کی تعلیم ۲- غیر مذاہب کے بارہ میں آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور تعامل اس کے مطابق ۲ جون ۱۹۲۹ء کو سارے ملک میں نہایت شاندار جلسے منعقد ہوئے جن میں معزز غیر مسلم اصحاب نے بھی رسول کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پر پُر خلوص تقریریں کیں۔ ان تقریروں سے رسول پاک ا سے ان کی عقیدت کا اظہار ہوتا تھا۔ اس دن قادیان میں بھی ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مقررہ موضوع پر ایک مبسوط اور نہایت اہم تقریر فرمائی۔ حضور نے فرمایا کہ مختلف مذاہب کی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ساری اقوام اور تمام مذاہب توحید کے لفظ پر جمع ہیں ہاں تشریحات میں اختلاف ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ دنیا میں جس قدر مذاہب قائم ہیں وہ سب خدا کی طرف سے قائم کئے گئے ہیں۔ اس عقیدہ کی موجودگی میں یہ کہنا کہ پہلے توحید نہ تھی درست نہیں۔ جب ہر قوم میں نبی آئے تو یقیناً ہر قوم میں توحید بھی قائم ہوئی۔ تاہم جس زمانہ میں رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے اُس وقت توحید مٹ چکی تھی۔ آپ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے جس کا کوئی مذہب نہ تھا۔ اس قوم میں پیدا ہو کر آپ نے توحید کو