انوارالعلوم (جلد 10) — Page 306
۳۰۶ رہنے والوں کے مارے جانے کا سو فیصدی احتمال تھا- صحابہ نے چاہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لوٹائیں اور حضرت ابوبکر اور حضرت عباس نے گھوڑے کی باگ پکڑ کر واپس کرنا چاہا- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باگ چھوڑ دو اور بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھ گئے اور فرمایا-انا النبی لا کذب ۴۰؎میں خدا کا نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں- یعنی اس صورت میں میں اپنی جان کی کیا پرواہ کر سکتا ہوں- احد کی جنگ میں ایک بہت بڑا دشمن آپ پر حملہ کرنے کے لئے آیا- چونکہ وہ تجربہ کار جرنیل تھا- صحابہ نے اسے روکنا چاہا- مگر آپ نے فرمایا آنے دو- وہ مجھ پر حملہ آور ہوا ہے میں ہی اس کا جواب دوں گا- جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تھے تو علاوہ جنگوں کے خفیہ حملے بھی آپ کی جان پر ہوتے رہتے تھے- چنانچہ ایک دفعہ مکہ سے ایک شخص کو لالچ دے کر بھیجا گیا کہ آپ کو خفیہ طور پر مار آئے یہ شخص اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوا اور گرفتار کر لیا گیا- یہود بھی آپ کے قتل کے درپے رہتے تھے- ایک دفعہ آپ کو اپنے محلہ میں بلا کر سر پر پتھر پھینکنا چاہا مگر آپ کو معلوم ہو گیا اور آپ واپس تشریف لے آئے- ایک دفعہ ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور کھانے میں زہر ملا دیا- آپ نے ایک ہی لقمہ کھایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو حقیقت پر آگاہ کر دیا- تبوک کی جنگ سے واپسی کے وقت چند منافق آگے بڑھ کر راستہ میں چھپ گئے اور آپ پر اندھیرے میں قاتلانہ وار کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰٰ نے آپ کو مطلع کر دیا- آپ نے ان لوگوں کو بھی چھوڑ دیا- غرض آپ پر بڑے بڑے خطرناک حملے کئے گئے- اور تئیس سال کے لمبے عرصہ میں ہر روز گویا آپ کو قتل کرنے کی تجویز کی گئی اور صرف اس وجہ سے کہ آپ توحید کا وعظ کیوں کرتے تھے اور کیوں نیکی اور تقویٰ کی طرف بلاتے تھے- مگر آپ نے اپنی جان کو روز کھو کر صداقت کا وعظ کیا اور سچائی کو قائم کیا- تعجب ہے کہ لوگ ان لوگوں کو تو قربانی کرنے والے سمجھتے ہیں جنہیں ایک موقع جان دینے کا آیا اور ان کی جان چلی گئی- مگر اس کی قربانی کا اقرار کرنے سے رکتے ہیں جس نے ہر روز سچائی کے لئے اپنی جان کو پیش کیا- گو یہ اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے اس کی جان کو محفوظ رکھا- قربانی تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے