انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 305

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۰۵ دنیا کا محسن دار مارے گئے۔ چنانچہ حضرت حمزہ اُحد کی لڑائی میں حضرت جعفر شام کے سریہ میں مارے گئے ۔ اول الذکر آپ کے چچا اور ثانی الذکر آپ کے چچا زاد بھائی تھے۔ جان کی قربانی بھی بہت بڑی قربانی ہے۔ حتی کہ بعض لوگ غلطی سے صرف جان کی قربانی اس قربانی کو قربانی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ آپ نے اس قربانی کو بھی خدا تعالیٰ اور کے بنی نوع انسان کے لئے پیش کیا۔ اشاعت حق کے لئے ہر خطرہ کو برداشت کیا۔ چنانچہ مکہ میں آپ پر اشاعت توحید کی وجہ سے مکہ والوں نے سخت سے سخت ظلم کیا اور آپ کے مارنے پر انعامات مقرر کئے ۔ مگر مگر آ۔ آپ نے ذرہ بھر بھی اپنی جان کی پرواہ نہیں کی۔ بلکہ ہمیشہ جان کے خطرے۔ ے سے استغناء ء کیا۔ چنانچہ آپ بے دھڑک دھا ہو کر سخت سے سخت دشمنوں کے پاس تبلیغ ۔ لئے چلے جاتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ تن تنها طائف تبلیغ کے لئے چلے گئے۔ حالانکہ طائف ان لوگوں کے اثر کے نیچے تھا جو آپ کے سخت دشمن تھے۔ وہاں جا کر تبلیغ کرنے کا کا نا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے رؤسا نے آپ کے پیچھے لڑکوں اور کتوں کو لگا دیا ۔ جو آپ پر پتھر پھینکتے تھے اور آپ کو کاٹتے تھے۔ وہ کئی میل تک آپ کا تعاقب کرتے آئے اور آپ پر اس قدر پتھر پڑے کہ آپ کا سب جسم لہولہان ہو گیا اور جوتیوں میں خون بھر گیا۔ آپ بعض دفعہ زخموں کی تکلیف اور خون کے بہنے کی وجہ سے گر جاتے تھے۔ تو وہ تو وہ کم بخت آپ کے بازو پکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے تھے اور پھر مارنے لگتے ۔ ای طرح ایک دفعہ رات کے وقت شور پڑا اور سمجھا گیا کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے۔ صحابہ اس شور کو سن کر گھروں سے نکل کر ایک جگہ جمع ہونے لگے کہ تا تحقیق کریں کہ شور کیسا ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ملا سلیم گھوڑے پر چڑھے ہوئے جنگل سے واپس آ رہے ہیں اور معلوم ہوا کہ آپ تن تنہا شور کی وجہ دریافت کرنے کے لئے چلے گئے تھے ، تا ایسا نہ ہو کہ دشمن اچانک مدینہ پر حملہ کر دے۔ ایک اور مثال جان کی قربانی کی غزوہ حنین کا واقع ہے۔ غزوہ حنین میں بہت سے ایسے لوگ شامل تھے جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے۔ فتح مکہ کے بعد قومی جوش کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے۔ ہوازن کے مقابلہ کی تاب نہ لاکر وہ لوگ پسپا ہو گئے اور ان کے بھاگنے سے صحابہ کی سواریاں بھی بھاگ پڑیں اور چار ہزار دشمن کے مقابلہ میں صرف رسول کریم ملی اور بارہ صحابی رہ گئے ۔ اس وقت چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔ اور وہاں کھڑے XXXXXXXXX