انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 304

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۰ دنیا کا محسن شاندار قربانی کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ مکہ سے نکالے جانے کے آٹھ سال بعد آپ پھر مکہ کی طرف واپس آئے اور اس دفعہ ما دفعہ آپ کے ساتھ دس ہزار کا کا لشکر تھا۔ مکہ کے لوگ آپ کا مقابلہ نہ کر سکے۔ اور مکہ آپ کے ہاتھوں پر فتح ہوا۔ اور آپ اس مکہ میں جس میں سے صرف ایک ہمراہی کے ساتھ آپ کو افسردگی سے نکلنا پڑا تھا ایک فاتح جرنیل کی صورت میں داخل ہوئے۔ وہ لوگ جو آپ کو نکالنے والے تھے یا مارے جاچکے تھے یا اطاعت قبول کر چکے تھے اور مکہ آپ کو اپنی آغوش میں لینے کے لئے ایک مضطرب ماں کی طرح تڑپ رہا تھا۔ لیکن باوجود اس کے کو آپ کو اس شہر سے بہت محبت تھی اور وہاں خانہ کعبہ تھا، آپ نے اسلام کی خاطر اور اس قوم کی خاطر جس نے تکلیف کے وقت آ۔ آپ کو جگہ دی تھی، اور اس کا دل رکھنے کے لئے مکہ کی رہائش کا خیال نہ کیا اور واپس مدینہ تشریف لے گئے۔ یہ آپ کی وطن کی دوسری قربانی تھی۔ م کی قربانی آپ نے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں اور ساری عمر اٹھا ئیں۔ ملکہ میں تو کفار دکھ دیتے ہی رہے مگر مدینہ میں بھی منافقوں نے آر آرام نہ لینے دیا۔ علاوہ آرام کی از میں آپ سارا سارا دن اور آدھی آدھی رات تک کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو اٹھ کر عبادت کرتے۔ اس طرح آپ نے اپنی آسائش اور آرام کو قربان کر دیا۔ آپ نے نہ اچھے کپڑے پہنے اور نہ اچھے کھانے کھائے۔ عورتوں نے مال کا مطالبہ کیا تو انہیں جواب دیا میری زندگی میں تو تمہیں مال نہیں مل سکتا۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں جو آرام کی قربانی سے تعلق رکھتی ہیں۔ رشتہ داروں کی قربانی تھے۔ اس کی مثال کے طور پر ایک تو اس واقعہ کو پیش کیا جاسکتا ہے آپ میں ہم کس طرح رشتہ داروں کی قربانی کے لئے تیار رہتے کہ ایک دفعہ ایک عورت نے چوری کی۔ وہ ایک بڑے خاندان سے تھی۔ لوگوں نے اس کی سفارش کی۔ آپ اس پر بہت نارا ناراض ہوئے اور فرمایا کہ انصاف اور عدل کی خاطر میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ اگر فاطمہ میری بیٹی سے بھی ایسا فعل سرزد ہو تو اسے بھی سزادی جائے گی۔ یہ واقعہ تو آپ کے قلبی خیالات پر دلالت کرتا ہے۔ مگر عملی ثبوت بھی کثرت سے ملتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ باوجود اس کے کہ صحابہ آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کے لئے تیار تھے۔ آپ خطر ناک سے خطرناک مقامات پر اپنے رشتہ داروں کو بھیجتے تھے ۔ چنانچہ حضرت علی کو ہر میدان میں آگے رکھتے اسی طرح حضرت حمزہ کو جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائیوں میں آپ کے عزیز رشتہ