انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 293

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۹۳ دنیا کا محسن ترقی نہ ہوگی ایک دفعہ آپ کہیں جا رہے تھے کہ لوگ کھجور کے پیوند لگا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا۔ یہ کیا کر رہے ہو اس کی کیا ضرورت ہے ؟ پیوند لگانے والوں نے سمجھا آپ نے منع فرمایا ہے اور انہوں نے پیوند لگانے چھوڑ دیئے۔ اس سال کھجوروں کو پھل نہ لگے ۔ انہوں نے آکر رسول کریم ملی ایم سے کہا۔ آپ نے پیوند اپ نے پیوند لگانے سے منع کیا تھا مگر پھل نہیں لگے۔ آپ نے فرمایا میں نے تو پوچھا تھا تھا نہ یہ کہ منع کیا تھا۔ تم نے کیوں ؟ نے کیوں پیوند لگانے چھوڑ دیئے تم لوگ ان امور کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو ۔ اسی طرح آپ کے بیٹے ابراہیم کی موت پر گرہن لگا۔ تو لوگوں نے کہا کہ ابراہیم ابراہیم کی موت پر گرہن لگا ہے۔ تو آپ نے اس سے لوگوں کو منع کیا اور فرمایا کہ گرہن خدا تعالیٰ کے ایک قانون سے تعلق رکھتا ہے اسے کسی کی موت اور حیات سے کیا تعلق ہے۔ گیارھواں احسان آپ کا دنیا پر ۔ پر یہ ہے کہ آپ نے سرمایہ اور مزدوری میں اتحاد سرمایہ دار اور مزدور کے تعلقات کو ایسے اصول پر قائم کیا کہ دنیا کی ترقی کے لئے رستہ کھل جاتا ہے اور سرمایہ دار اور مزدور کے جھگڑے بالکل دور ہو جاتے ہیں۔ آپ نے جو تعلیم اللہ تعالی کے حکم سے دی ہے اس میں فیصلہ فرمایا ہے کہ ہر مالدار غریب کے ذریعہ کماتا ہے اس لئے اسے اپنے مال کا ۱/۴۰ حصہ غریبوں کے لئے الگ کر دینا چاہئے۔ جو ان پر خرچ کیا جائے۔ لیکن اس کے خرچ کا اختیار گورنمنٹ کو ہو گا۔ نہ کہ اس شخص کو یا اس کے ہاں کام کرنے والے مزدوروں کو۔ اس لئے در حقیقت سرمایہ دار صرف اپنے ہی مزدوروں کے ذریعہ نہیں کماتا بلکہ اس کی کمائی پر تمام ملک کے مزدورں کی محنت کا اثر پڑتا ہے۔ پس چالیسواں حصہ کل سرمایہ کا سرمایہ دار سے وصول کر کے گورنمنٹ غرباء پر اس طرح خرچ کرے کہ کچھ تو اپاہجوں پر کرے اور کچھ ان پر جو اپنی آمد میں گزارہ نہیں کر سکتے اور کچھ غرباء میں سے جو ترقی کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں انہیں مدد دے کر۔ تاکہ وہ اپنی حالت کو بدل سکیں۔ اس طرح رسول کریم میں ہم نے غرباء کی ترقی کے لئے راستہ کھول دیا ہے۔ اور امراء کو ہمیشہ کے لئے امیر بنے رہنے سے روک دیا ہے۔ بارھواں ں احسان رسول کریم میں ہم نے دنیا پر یہ کیا ہے۔ ، دنیا پر یہ کیا ہے کہ آپ نے شراب کی ممانعت شراب کو بالکل روک دیا ہے۔ شراب کی برائیوں کے متعلق مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب سب دنیا اس کے نقائص کو تسلیم کر رہی ہے اور مختلف ملکوں