انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 292

۲۹۲ عورتوں کے حقوق نواں احسان آپ کا وہ ہے جو صنف نازک سے تعلق رکھتا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عورتوں کے کوئی حقوق تسلیم ہی نہیں کئے جاتے تھے- اور عرب لوگ تو انہیں ورثہ میں بانٹ لیتے تھے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت عورتوں کے حقوق کو قائم کیا اور اعلان فرمایا کہ ولھن مثل الذی علیھن ۳۵؎ عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے- پھر آپ نے اعلان فرمایا جس طرح مردوں کے لئے مرنے کے بعد انعام ہیں- اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہیں- پھر عورتوں کے لئے جائیداد میں حصے مقرر کئے- اس کی اپنی جائیداد مقرر کی- انگلستان میں بھی آج سے ۲۰ سال قبل عورت کی کوئی جائیداد نہ سمجھی جاتی تھی- جو کچھ اسے باپ سے ملتا، وہ بھی اس کا نہ ہوتا- مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تیرہ سو سال قبل یہ حکم دیا کہ عورت اپنے مال کی آپ مالک ہے- خاوند بھی اس کی مرضی کے خلاف اس سے مال نہیں لے سکتا- بچوں کی تربیت، نکاح میں رضامندی اور اس قسم کے بہت سے حقوق آپ نے عورت کو عطا کئے- توہّم کا انسداد دسواں احسان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ دنیا میں جو توہم پائے جاتے تھے- آپ نے ان کا انسداد کیا- آپ کی آمد سے پہلے جادو اور ٹونے کا بہت رواج تھا- اور جانوروں سے اور ان کی بولیوں سے لوگ تفاؤل لیتے تھے اور قسم قسم کے وہموں میں مبتلا تھے- مگر جب کہ تعلیم یافتہ ملکوں کے لوگ وہم میں مبتلا تھے- آپ نے ایک جاہل ملک میں پیدا ہو کر سب وہموں کو دور کر دیا اور اعلان کر دیا کہ یہ سب امور فضول اور لغو ہیں- خدا تعالیٰ نے ہر اک امر کے لئے علم پیدا کیا ہے- اس علم سے فائدہ اٹھانا چاہئے- اس کے ذریعہ سے بیماریاں بھی دور ہونگی اور ترقیات حاصل ہونگی- لوگ کہتے ستاروں کی وجہ سے بارشیں ہوتی ہیں- آپ نے فرمایا بے شک ان کا بھی اثر ہوتا ہے- مگر یہ ستارے اپنی ذات میں کوئی مستقل حیثیت رکھتے ہوں یہ درست نہیں ہے- وہ خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں- ان کی گردشوں پر اپنے کام کو منحصر رکھنا فضول اور لغو بات ہے- اسی طرح بلی، کوا اور الو وغیرہ جانوروں سے شگون لینے کو آپ نے ناپسند فرمایا- اسی طرح قانون قدرت کی صحت کو تسلیم کر کے فرمایالن تجد لسنہ اللہ تبدیلا ۳۶؎ ایک قانون خدا تعالیٰ نے جاری کیا ہے اس کے ماتحت چل کر ترقی کر لو- اس کے خلاف کرو گے تو