انوارالعلوم (جلد 10) — Page 290
۲۸۰ پڑھتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے تھا کہ ہر اک چیز میں خواہ وہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور جب کوئی چیز کسی فائدہ کی نہ رہے تو وہ بالکل مٹا دی جاتی ہے پس یہ کس طرح کہتے ہیں کہ دوسرے میں کوئی خوبی ہے ہی نہیں- وہ مسلمان جو یہ کہتا ہے کہ ہندو مذہب میں عیب ہی عیب ہیں یا ہندو مسلمانوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کے مذہب میں عیب ہی عیب ہیں- یا عیسائی ہندوؤں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان کے مذہب میں عیب ہی عیب ہیں، کوئی خوبی نہیں ہے- انہیں غور کرنا چاہئے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ عیسائیت دنیا میں قائم ہو مگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو- یا یہودیت قائم ہو مگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو- ہندو دھرم قائم ہو مگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو- یا اسلام قائم ہو مگر اس میں کوئی خوبی نہ ہو- کوئی مذہب اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس میں کوئی خوبی نہ ہو- مگر یہ تعلیم صرف اسلام نے ہی دی ہے کہ دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرو- دراصل یہ بزدلی ہوتی ہے کہ دوسروں کی خوبی کا اعتراف نہ کیا جائے- نیک نیتی سے ماننے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امن کے قیام کا ایک یہ بھی ذریعہ اختیار کیا ہے کہ آپ نے دنیا کے سامنے اس صداقت کو بھی پیش کیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ سب اقوام میں نبی آئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ ہر مذہب میں کچھ خوبیاں ہیں بلکہ یہ امر بھی بالکل حق ہے کہ ہر مذہب کے پیرؤوں میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جو اس مذہب کو سچا سمجھ کر مان رہے ہوتے ہیں نہ کہ ضد اور شرارت سے- پس یہ نیکی کی تڑپ جو ماننے والوں کے دلوں میں پائی جاتی ہے نظر انداز نہیں کی جا سکتی- اور گو وہ غلطی پر ہوں مگر پھر بھی ان کی یہ سعی قابل قدر ہے چنانچہ اس کی مثال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عمل سے ملتی ہے سب جانتے ہیں کہ اسلام شرک کا سخت مخالف ہے- مگر ایک دفعہ کچھ عیسائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مسجد میں بیٹھ کر بحث کرتے رہے حتیٰ کہ ان کی عبادت کا وقت ہو گیا اور عبادت کے لئے مسجد سے باہر جانے لگے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا یہاں ہی عبادت کر لو- چنانچہ انہوں نے بت اپنے سامنے رکھے اور عبادت کر لی- اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سامنے بیٹھے دیکھتے رہے- اب دیکھو کہ انہوں نے تو صلیب یا بزرگوں کے بتوں کی پوجا کی- لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ایسا کرنے کی اجازت دی- کیونکہ آپ جانتے تھے کہ وہ لوگ سچے دل سے خدا تعالیٰ کے قرب کے لئے ایسا کر رہے ہیں- پس ان کی اس تڑپ