انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 280

۲۸۰ بتاؤ کہ ہم علاج کے لئے بھی تیار ہیں- غرض عزت چاہتے ہو تو عزت دینے کیلئے تیار ہیں، اگر بادشاہت چاہتے ہو تو بادشاہت دینے کے لئے، اگر عورت چاہتے ہو تو عورت دینے کے لئے اور بیمار ہو تو علاج کرنے کے لئے ہم تیار ہیں- مگر تم یہ کہنا چھوڑ دو کہ خدا ایک ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری ان چیزوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں- میرا جواب سنو- یہ فرما کر آپ نے چند آیات قرآن کی تلاوت فرمائیں جن میں توحید کی تعلیم تھی- ان آیات کو سن کر عتبہ پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے واپس جا کر کہا یہ نہ جھوٹا ہے اور نہ ساحر ہے، اس کی مخالفت چھوڑ دو- احسانات کی قسمیں اب میں آپ کے احسانات کا ذکر کرتا ہوں- احسان کئی قسم کے ہوتے ہیں- ایک احسان وقتی ہوتے ہیں اور دوسرے لمبے عرصہ کے لئے- پھر آگے ان کی دو قسمیں ہیں-(۱) طبعی یعنی فطرت کے تقاضا کے ماتحت- جیسے ماں کے دل میں بچہ کی خدمت کا تقاضا ہوتا ہے- (۲) عقلی یعنی ایسا احسان جو عقل کے تقاضا کے ماتحت ہو- مثلاً ایک مظلوم کو دیکھ کر رحم آ جانا اور اس پر احسان کرنا- یا ایک شخص کو جاہل دیکھ کر اس پر رحم کر کے اسے علم پڑھا دینا- پھر آگے عقلی احسان کی بھی دو قسمیں ہیں-(۱) ایسا احسان جس کا بدلہ لینے کی امید ہوتی ہے- مثلاً کسی کو علم پڑھاتے ہیں تو امید ہوتی ہے کہ وہ ہمارے خیالات کی آگے اشاعت کرے گا- (۲) طبعی عقل یعنی خواہش احسان تو بوجہ دلیل اور عقل کے ہوتی ہے مگر وہ اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ طبعی کی طرح ہو جاتی ہے- انسان احسان کرنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے- اس کی آگے پھر دو قسمیں ہیں- ایک وہ احسان جو اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالے بغیر کیا جاتا ہے- جیسے کسی کے پاس مال ہو اور وہ کسی پر احسان کر کے اسے کچھ مال دے دے- دوسری قسم کا احسان یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر دوسرے پر احسان کرتا ہے- مثلاً کسی کے گھر آگ لگی ہے- اس میں کود کر اس کے مال کو یا اس کے گھر کے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے- یہ احسان کی قسمیں ہیں- ان کو مدنظر رکھ کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ رسولکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف احسان ہی نہیں کیا- بلکہ اعلیٰ سے اعلیٰ احسان کیا ہے- مثلاً آپ کے احسانات صرف عارضی نہیں ہیں، اکثر دائمی ہیں- اور پھر آپ کے احسانات صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہیں جو آپ کے رشتہ دار تھے- بلکہ آپ کے احسانات اپنے دوستوں