انوارالعلوم (جلد 10) — Page 270
انوار العلوم جلد ۔) ۲۷۰ دنیا کا محسن اخلاص اور خود ان کے زہد اور تقوی کی وجہ سے عائشہ سے کمال محبت رکھتے تھے کیا یہ عیاشی کہلا سکتی ہے۔ پھر عیاشی کے لئے مزامیر ضروری ہوتے ہیں۔ مگر رسول کریم میں ہم نے ان کے ہیں جو یم مزامیر متعلق فرما دیا ہے کہ یہ شیطانی آلے ہیں۔ یاد رکھو کہ ایسے لوگ تو ہو سکتے عیاش نہ ہوں اور باجے سنیں مگر کوئی ایسا عیاش نہیں ہو سکتا جو مزا ہی نہ سنا ہو۔ مگر م م م وہ انسان تھے جو مزامیر کو مٹانے والے تھے۔ اگر آپ نَعُوذُ بِاللهِ عیاش ہوتے تو پھر طرح ممکن تھا کہ ایسا کرتے۔ کس پھر عیاش انسان عورتوں کی خواہشوں کا پابند ہوتا عورتوں کی خواہشوں کی پابندی ہے۔ مگر رسول کریم میں ﷺ کا یہ حال تھا کہ جب خیبر کا علاقہ فتح ہوا اور وہاں کے ٹیکس کی ایک معقول رقم آنے لگی اور مسلمانوں کے گھروں میں دولت اور فراوانی آگئی تو آپ کی بیویوں نے بھی جن میں سے اکثر آسودہ حال گھرانوں کی لڑکیاں تھیں۔ خواہش کی کہ ہم بہت تنگی میں گزارہ کرتی ہیں۔ اس وقت تو ہم نے اس وجہ سے کچھ نہیں کہا کہ روپیہ تھا ہی نہیں۔ لیکن اب جب کہ روپیہ آگیا ہے اور سب سب لوگوں کو حصہ ملا ہے۔ ہماری آسودگی کا بھی انتظام ہونا چاہئے اور اس تنگ زندگی سے ہمیں بچانا چاہئے تو اس خواہش کے جواب میں وہ انسان جسے کہا جاتا ہے کہ ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ عیاش تھا اور عورتوں کی صحبت میں اس نے عمر گذاری جو جواب دیتا ہے اس کا ذکر قرآن کریم میں ان الفاظ میں آیا ہے۔ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لَّا زَوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّ حُكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا - وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنُتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا عَلى خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے نبی ان بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کے مال اور زینت کے سامان کی خواہش رکھتی ہو تو آؤ تم کو مال دے دیتا ہوں۔ مگر اس حالت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں ۔ مال لے کر تم مجھ سے جدا ہو جاؤ ۔ لیکن اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی محبت رکھتی ہو اور آخرت کی بھلائی چاہتی ہو تو پھر ان اموال کا مطالبہ نہ کرو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان کے لئے جو پوری طرح خدا کے احکام کی پابندی کرنے والیاں ہوں گی بہت بڑے