انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxx
انوار العلوم جلد ) ۲۱ تعارف کتب ہندو اکثریت ہرگز ان کی بات نہیں مانے گی۔ حضور نے مسلمانوں کو بروقت انتباہ کے طور پر فرمایا: میں یہ نہیں کہتا کہ ہندوستان کی آزادی کیلئے کوشش نہ کرو۔ اب جبکہ انگلستان نے خود فیصلہ کر دیا ہے کہ ہندوستان کو نیابتی حکومت کا حق ہے اس کیلئے جو جائز کوشش کی جائے میں اس میں اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ شریک ہوں۔ مگر جو چیز مجھ پر گراں ہے اور میرے دل کو بٹھائے دیتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کی حفاظت کئے بغیر آئندہ طریق حکومت پر راضی ہو جائیں اس کے نتائج نہایت تلخ اور نہایت خطرناک نکلیں گے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ جب تک کہ دونوں مسلم لیگز کی پیش کردہ تجاویز کو قبول نہ کر لیا جائے اس وقت تک وہ کسی صورت میں بھی سمجھوتے پر راضی نہ ہوں ورنہ جو خطرناک صورت پیدا ہوگی اس کا تصور کرکے بھی دل کانپتا ہے ۔“ اس کتاب میں حضور نے یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ چنانچہ آپ نے چار تجاویز پر مشتمل ایک لائحہ عمل پیش فرمایا تاکہ مسلمان اس پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کر سکیں:۔ -۱- ایک آل پارٹیز مسلم کانفرنس منعقد کی جائے جس میں اصولی غور و فکر کرنے کے بعد ایک سب کمیٹی بنائی جائے جو نہرو رپورٹ کا جائزہ لے کر اس کی خامیوں کو دور کرے اور ایک مکمل قانون اساسی پیش کرے۔ ۲۔ ہر شہر اور قصبے میں جلسے کرکے ریزولیوشن پاس کئے جائیں کہ ہم نہرو کمیٹی کی رپورٹ سے متفق نہیں۔ یہ ریزولیوشن گورنمنٹ کو بھجوائیں جائیں۔ جمہور مسلمانوں کو شہرو رپورٹ کی خرابیوں سے آگاہ کیا جائے۔ -۴- انگلستان کی رائے عامہ پر بھی اثر ڈالنے کی کوشش کی جائے تا انہیں معلوم ہو جائے کہ نہرورپورٹ لکھنے والے فرقہ وارانہ تعصب سے بالا نہیں رہ سکے۔ اس کتاب کی وسیع اشاعت کی گئی۔ حضور کی اس بروقت راہنمائی سے اونچے طبقہ کے مسلمان زعماء بہت ممنون ہوئے اور مسلم سیاسی حلقوں میں اسے بہت پسند کیا گیا۔ کئی بڑے