انوارالعلوم (جلد 10) — Page 253
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۵۳ دنیا کا محسن اس گر کے ماتحت رسول کریم میں کے اعمال کو دیکھنا رسول کریم اسلام کی زندگی چاہئے کہ آپ کی زندگی لوگوں کے فائدہ کے لئے تھی یا اپنے فائدہ کے لئے۔ آپ کا مرنا اپنے لئے تھا یا لوگوں کے فائدہ کے لئے۔ آپ نے جو احسان کئے وہ اپنے فائدہ کے لئے تھے یا لوگوں کے فائدہ کے لئے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے جو احسان کئے ، وہ اپنے نفس کے ۔ کے لئے تھے تو پھر خواہ آپ کے دس ہزار احسان گنا دیئے جائیں ۔ آپ کی کوئی خوبی نہ ہوگی۔ اسی طرح اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے کسی کو جو سزا دی وہ غصہ اور انتظام کے طور پر دی تھی تو بے شک یہ بری بات ہوگی۔ لیکن اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ لوگوں کے فائدہ کے لئے ایسا کیا گیا۔ اور یہ ایسی ہی سزا تھی جیسی خدا تعالیٰ بھی اپنے بندوں کو دیتا ہے اور جو دوسروں کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے تو یہ قابل تعریف بات ہو گی۔ اسی طرح اگر یہ ثابت ہو جائے کہ رسول کریم میں ہم نے اپنی زندگی اپنے ذاتی آرام و آسائش کے لئے خرچ کی تو یہ بڑی بات ہوگی۔ لیکن اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ آپ نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کی تو یہ مقدس زندگی ہوگی۔ اسی طرح آپ کی موت اپنے لئے ہوئی تو بڑی ہو گی لیکن اگر خدا کے لئے ہوئی تو مقدس ہوگی۔ دیکھو کئی دفعہ قربانی بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک بری قربانی شخص آکر اسلامی لشکر میں شامل ہو گیا اور بڑے زور سے لڑتا رہا۔ لوگوں نے اسے دیکھ کر کہا یہ بڑی جانبازی سے لڑا ہے۔ مگر رسول کریم میں ہم نے کہا یہ جہنمی ہے۔ یہ بات سن کر ان لوگوں کو بہت تعجب ہوا اور ایک شخص اس کے پیچھے چل پڑا۔ آخر وہ زخمی ہوا اور اس سے پوچھا گیا کہ تم کیوں لڑے ہو ، تو اس نے کہا کہ میں کسی نیک مقصد کے لئے نہیں لڑا۔ بلکہ مجھے اس قوم سے بغض تھا اس کی وجہ سے لڑا تھا۔ تو رسول کریم میں ہم نے اس کے فعل کو پسند نہ کیا۔ حالانکہ وہ آپ کی طرف سے لڑا تھا۔ بلکہ آپ نے فرمایا چونکہ یہ صداقت کے لئے نہیں لڑا بلکہ نفسانیت کے لئے لڑا ہے، اس لئے اس کا یہ فعل نا پسندیدہ ہے۔ غرض جب مقصد اور مدعا اچھا ہو ، سزا بھی اچھی ہوتی ہے اور احسان بھی اچھا ہوتا ہے۔ لیکن اگر مقصد خراب ہو تو سزا بھی خراب ہوتی ہے اور احسان بھی۔