انوارالعلوم (جلد 10) — Page 252
۲۵۲ شخص کے پاس کسی کا لڑکا ہو جو روز بروز خراب ہوتا جائے- مگر وہ اسے کچھ نہ کہے اور کسی برائی سے نہ روکے تو کوئی شخص اسے اچھا نہ کہے گا- ہر ایک یہی کہے گا کہ اس نے بہت برا کیا، فلاں کے لڑکے کو خراب کر دیا- اسی طرح طبعی رحم بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا- ایک شخص میں بزدلی پائی جاتی ہے اور اس وجہ سے وہ کسی کو سزا نہیں دے سکتا تو یہ اس کی خوبی نہیں، نہ قابل تعریف بات بلکہ یہ نقص ہے- اسی طرح اگر کوئی ریا کے طور پر رحم کرے- اس کے دل میں تو بغض بھرا ہو مگر ظاہر طور پر وہ رحم کا سلوک کرے تو یہ بھی قابل قدر نہ ہوگا- یا اگر نیک سلوک اس لئے کرتا ہو کہ اسے کچھ حاصل ہو جائے تو یہ بھی قابل تعریف نہ ہوگا- جیسے شاعر لوگوں کی اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ کچھ مل جائے- لیکن اگر حسن سلوک دلیل اور برہان کے ماتحت ہو، فکر کے نتائج میں ہو، دوسرے کے فائدہ کے لئے ہو کہ اس سے ان کی اصلاح ہو گی اور امن قائم ہوگا، تو یہ قابل قدر چیز ہوگی- نفس کا آرام پھر نفس کے آرام کا بھی یہی حالت ہے وہ جس مقصد کے لے ہوگا، اسی کے مطابق اس کا درجہ ہوگا- اگر وہ لذت نفس کے لئے سستی یا تکبر کے لئے یا آرام طلبی کی غرض سے ہو تو برا ہے- لیکن اگر حکمت کے ماتحت ہو، اظہار شکر کے لئے ہو تو اچھا ہے- مثلاً اگر کوئی اس لئے سوتا ہے کہ تازہ دم ہو کر خدا کے لئے یا بنی نوع انسان کے لئے زیادہ محنت سے کام کر سکے گا، تو اس کا یہ آرام پانا قابل تعریف ہوگا- یا کوئی کھانا اس لئے کھاتا ہو کہ طاقت پیدا ہو اور دین یا دنیا کی خدمت کر سکوں- تو یہ بھی قابل تعریف ہوگا- یا اچھے کپڑے اس لئے پہنتا ہو کہ اللہ نے اس پر جو احسان کیا ہے، اسے ظاہرے کرے- صفائی رکھے تو یہ اچھی بات ہے- اسی طرح اگر کوئی زہد اختیار کرے یعنی دنیا کی چیزوں کو چھوڑے تو وہ اگر اس لئے چھوڑے کہ لوگ اس کی تعریف کریں، تو یہ برا فعل ہے- لیکن اگر اس لئے چھوڑے کہ لوگوں کو نفع پہنچائے تو اچھا ہے- یا اگر اس لئے چھوڑے کہ لوگ اسے پیر مان لیں، تو یہ برا ہے- لیکن اگر لوگوں کے لئے قربانی کرتا ہے تو یہ اچھا ہے- پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو سزا دینا یا ان پر رحم کرنا، کسی کو مارنا یا خود مرنا یا زندہ رہنا اگر خدا کے لئے ہے تو اچھا فعل ہے اور اگر خدا کے لئے نہیں تو پھر اچھا فعل نہیں ہے-