انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 251

۲۵۱ لئے ہوتا ہے- تو ماننا پڑے گا کہ ہر سزا کو دیکھ کر اسے ظلم نہیں کہا جا سکتا- جیسا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو سزا آتی ہے، چاہے اسے تناسخ کا نتیجہ سمجھو، چاہے اس دنیا کی زندگی کے اعمال کی جزا سمجھو، چاہے تنبیہہ کے طور پر سمجھو، چاہے ترقی کا ذریعہ سمجھو- مگر بہرحال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ظلم نہیں ہے بلکہ رحم ہے- اور انسان کے فائدہ کے لئے ہے- غرض کسی انسان کے فعل میں کوئی سختی یا سزا یا موت یا قتل کا پایا جانا ظلم نہیں ہوتا- ظلم اس وقت ہوتا ہے جب یہ ثابت ہو جائے کہ محبت اور شفقت، ہمدردی اور خیر خواہی کے طور پر نہیں بلکہ انتقام اور بدلہ لینے کے لئے سزا دی گئی ہے- اگر غصہ اور بے پرواہی، بدلہ اور لذتانتقام کے لئے سزا دی جائے تو یہ فعل یا تو عبث ہوگا اور یا ظالمانہ کہلائے گا- لیکن اگر فعل کی غرض رضائیالہی، اصلاح نفس سزا یافتہ یا حفاظت حقائق ازلیہ ہو، تو یہ فعل برا نہ ہوگا- مذہبی لیڈروں کا لڑائی میں حصہ لینا چنانچہ ہم کہتے ہیں جتنے بڑے بڑے مذہبی لیڈر ہوتے ہیں، انہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں لڑائی میں حصہ لیا ہے- رامچندر جی نے لڑائی میں حصہ لیا- انہوں نے روان پر جو حملہ کیا اور اسے تباہ کیا یہ درست تھا کیونکہ وہ سبق دینا چاہتے تھے کہ کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہئے- ان کے اس مقصد کو دیکھ کر ہر عقلمند ان کے اس فعل کو درست کہے گا اور ان کی تعریف کرے گا- اسی طرح کرشن جی نے لڑائی میں حصہ لیا- لڑائی کرنے کی پر زور تحریک کی اور گیتا میں اس بات پر بڑا زور دیا کہ لڑائی کرنا بھی ضروری ہوتا ہے- اور اچھے اغراض کے ماتحت لڑائی کرنا منع نہیں ہے- اور بتایا ہے کہ کرشن جی لڑائی کی تحریک خدا کے لئے ہی کر رہے تھے- اس لئے ان کا فعل اچھا تھا برا نہ تھا- اسی طرح دوسرے مذاہب میں بھی مثالیں پائی جاتی ہیں- اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لڑائی کا موقع نہیں ملا- مگر ان کے بعد میں آنے والے پیرؤوں نے لڑائیاں کیں اور حق کے لئے کیں- پس جو کام دنیا کی اصلاح اور فائدہ کے لئے کیا جائے اور نیکی نیتی سے کیا جائے، جائز حد تک کیا جائے، وہ برا نہیں ہوتا بلکہ اچھا ہوتا ہے- رحم کس حال میں اچھا ہے یہی حال رحمت کا بھی ہے- رحم بھی اسی وقت اچھا ہوتا ہے جب کہ نیک نیتی اور نیک ارادہ سے کیا جائے- مثلاً ایک