انوارالعلوم (جلد 10) — Page 250
۲۵۰ بلکہ اس سے محبت اور ہمدردی ہوگی- پس دیکھنا یہ ہوگا کہ استاد نے لڑکے کو مارا کیوں ہے- صرف بید لگتے دیکھ کر یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے- اسی طرح کسی گھر میں کوئی ماں یا باپ ایسا نہ ہوگا- جس نے کبھی اپنے بچے کو جھڑکا نہ ہو یا تنبیہہ نہ کی ہو یا مارا نہ ہو- مگر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سب ماں باپ ظالم ہوتے ہیں وہ اپنے بچوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ ان سے پیار اور محبت رکھتے ہیں- اور ان کی اصلاح کے لئے جب ضرورت سمجھتے ہیں سزا بھی دیتے ہیں- ڈاکٹر کا نشتر اسی طرح کوئی شخص ہسپتال کے پاس سے گذرے اور دیکھے کہ ڈاکٹر نے نشتر نکالا ہوا ہے اور ایک شخص کے جسم کو چیر رہا ہے- تو اسے کوئی عقلمند آدمی ظلم نہ کہے گا- دیکھنا یہ ہوگا کہ کیوں چیرا دیا گیا ہے- اگر ڈاکٹر چیرا دے کر پیپ نہ نکالتا یا گندہ حصہ کو جدا نہ کرتا تو وہ شخص مر جاتا- پس اگر ڈاکٹر کسی کے زخم سے پیپ نکالتا ہے یا اس کے پیٹ کو چیر کر پتھری نکالتا ہے- یا اس کا کوئی دانت نکالتا ہے- یا بعض دفعہ اس کا ہاتھ یا پاؤں یا ناک یا کان کاٹتا ہے تو وہ ظلم نہیں کرتا، بلکہ رحم کرتا ہے- اور جو شخص یہ دیکھے گا کہ ڈاکٹر اس قسم کا کام کر رہا ہے- وہ یہی کہے گا کہ اس نے احسان کیا ہے اور اس کے احسان ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ لوگ خود ڈاکٹروں کے پاس جاتے اور بڑی بڑی رقمیں دے کر اپنا ہاتھ یا پاؤں یا کوئی اور حصہ کٹواتے ہیں- اگر یہ رحم اور احسان نہ ہوتا تو روپیہ اس کے بدلے میں دے کر کیوں ایسا کراتے- کیا کبھی کوئی اپنے پاس سے روپیہ دے کر بھی سزا لیا کرتا ہے- خدا تعالیٰ پر الزام پس دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کسی فعل کا مقصد کیا ہے- اس کی غرض فائدہ پہنچانا ہے یا تکلیف دینا اور صرف سزا کو دیکھ کر یہ کہنا کہ ظلم کیا گیا ہے درست نہیں ہے- ورنہ دنیا کے سارے مجسٹریٹ، سارے استاد، سارے ماں باپ، سارے ڈاکٹر ظالم قرار دینے پڑیں گے- بلکہ نعوذ باللہ خدا کو بھی ظالم کہنا پڑے گا کیونکہ ہم روز دیکھتے ہیں کہ وہ ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کی جان نکالتا ہے- وبائیں آتی ہیں، طوفان آتے ہیں، اگر صرف کسی تکلیف دہ فعل کو دیکھ کر اسے ظلم قرار دینا درست ہو سکتا ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ نعوذ باللہ خدا بھی ظالم ہے- لیکن اگر خدا تعالیٰ کے ایسے فعل کی کوئی حکمت ہوتی ہے- مثلاً یہی کہ ایک قوم کے نزدیک وہ پچھلے جنم کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے یا ایک دوسری قوم کے نزدیک گناہوں سے بچانے کے لئے ہوتا ہے- یا اگلے جہان میں ترقی دینے کے