انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxix
انوار العلوم جلد 10 ۲۰ تعارف کتب نمائندگی ہوئی اور نہ صحیح طور پر صوبوں کی اسی لئے انہوں نے مسلمانوں کے مطالبات نظر انداز کر دیئے۔ چونکہ یہ ہندوؤں کے مفاد کی بات تھی اس لئے انہوں نے تو اس رپورٹ کی حمایت کرنی ہی تھی لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ پڑھے لکھے مسلمان راہنماؤں کا ایک حصہ بھی اس کی تائید میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ ان کے لیڈر مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ ہندوؤں کی چرب زبانی کا اثر مسلمان زعماء پر اتنا زیادہ تھا کہ ابتداء جناب محمد علی جناح بھی نہرو رپورٹ کے حامی تھے۔ ان حالات میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محسوس کیا کہ اگر مسلمانوں کی بروقت راہنمائی نہ کی گئی اور نہرورپورٹ کی حقیقت واضح کر کے اس کے خلاف احتجاج پر انہیں آمادہ نہ کیا گیا تو قوی خطرہ ہے کہ رپورٹ دستور کی شکل میں نافذ ہو جائے گی اور مسلمان اپنے حقوق سے محروم رہ جائیں گے۔ اس موقع پر اس امر کی اشد ضرورت تھی کہ نہرو رپورٹ کا علمی و عملی رنگ میں تجزیہ کرکے مسلمانوں کو اس کی مخالفت میں مضبوط پلیٹ فارم پر کھڑا کردیا جائے تاکہ وہ ہندوؤں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رہ کر اپنی قومی زندگی شاہراہ ترقی پر ڈال سکیں۔ چنانچہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے "شہرو رپورٹ" کی کاپی ملتے ہی مطالعہ کے بعد اس کا رد لکھنا شروع کر دیا جو الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۲۸ء سے ۲ نومبر ۱۹۲۸ء تک سات قسطوں میں مکمل ہوا اور بعد ازاں مسلمانوں کے حقوق اور نہرو رپورٹ" کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ حضور نے فرمایا کہ جب قانون اساسی کے بناتے ہوئے مسلمانوں کی نیابت کا خیال نہیں رکھا گیا تو آئندہ چھوٹے قوانین بناتے ہوئے مسلمانوں کے احساسات کا خیال کیسے رکھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ اس پر غور کرنے کے بعد آپ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ سکیم ہرگز ملک کیلئے مفید نہیں ہو سکتی خصوصاً مسلمانوں کو تو اس سے سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے انہیں خاص قانونی حفاظت کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں آپ نے سات اصولی مطالبات پیش کئے اور ہر مطالبہ کی معقولیت کو دلائل سے ثابت کیا۔ آپ نے مسلمانوں کو ہوشیار کیا کہ وہ یہ خیال چھوڑ دیں کہ اب جو کچھ بھی فیصلہ ہو جائے بعد میں اگر اس میں نقص معلوم ہوا تو اسے بدل دیا جائے گا۔ فرمایا کہ ایسا کرنا ممکن نہیں رہے گا کیونکہ مسلمان اقلیت میں ہوں گے اور ہندو اکثریت میں۔