انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 240

۲۴۰ عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبیؐ پر مجبور کرنا ، مار پیٹ گالی گلوچ ،سزایافتہ ہونا، بد مستی ،جوئے کی عادت‘ حقوق کا ادا نہ کرنا، خرچ نہ دینا ، متعدی بیماری یا باہمی رضامندی کو طلاق یا خلع کی کافی وجوہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔ٍاٹلی میں ۱۹۱۹ء میں قانون بنا دیا گیا ہے کہ عورت اپنے مال کی مالک ہوگی اور اس میں سے صدقہ خیرات کر سکے گی یا اسے فروخت کر سکے گی اس وقت تک یورپ میں عورت کو اس کے مال کا مالک نہیں مانا جاتا تھا) میکسیکو امریکہ میں بھی اوپر کے بیان کردہ وجوہ کو طلاق و خلع کے لئے کافی وجہ تسلیم کر لیا گیا ہے۔اور ساتھ ہی باہمی رضامندی کو بھی اس کے جواز کیلئے کافی سمجھا گیا ہے۔یہ قانون ۱۹۱۷ء میں پاس ہوا ہے۔پرتگال میں ۱۹۱۵ء میں ناروے میں ۱۹۰۹ء میں، سویڈن میں ۱۹۲۰ء، اور سوئٹرزلینڈ میں ۱۹۱۲ء میں ایسے قوانین پاس کر دئے گئے کہ جن سے طلاق اور خلع کی اجازت ہوگئی ہے۔سویڈن میں باپ کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اٹھارہ سال تک کی عمر تک بچہ کے اخراجات ادا کرے۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں گو قانون اب تک یہی کہتا ہے کہ بچہ پر باپ کا حق ہے لیکن عملاً اسلامی طریق پر اصلاح شروع ہو گئی اور جج عورت کے احساسات کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں اور مرد کو مجبور کر کے خرچ بھی دلوایا جاتا ہے۔لیکن ابھی تک اس قانون میں بہت کچھ خامیاں ہیں گو مرد کے حقوق کی حفاظت زیادہ سختی سے کی گئی ہے۔عورت کو اس کے مال پر تصرّف بھی دلا یا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی بعض ریاستوں میں یہ بھی قانون پاس کر دیا گیا ہے کہ اگر خاوند اپاہج ہو جائے تو بیوی پر بھی اس کے اخراجات کا مہیا کرنا لازمی ہوگا۔عورتوں کو ووٹ کے حقوق دیئے جارہے ہیں اور ان سے قومی امور میں مشورہ لینے کے لئے بھی راہیں کھولی جا رہی ہیں لیکن یہ سب باتیں رسول کریم ﷺکے ارشادات کے پورے تیرہ سو سال کے بعد ہوئی ہیں اور ابھی کچھ ہونی باقی ہیں۔بہت سے ممالک میں ابھی عورت کو باپ اور ماں اور خاوند کے مال کا وارث نہیں قرار دیا گیا۔اور اسی طرح اور کئی حقوق باقی ہیں جن میں اسلام اب بھی باقی دنیا کی راہنمائی کر رہا ہے لیکن ابھی اس نے اس کی راہنمائی کو قبول نہیں کیا لیکن وہ زمانہ دور نہیں جب رسول کریم ﷺ کی راہنمائی کو ان معاملات میں بھی دنیا قبول کرے گی جس طرح اس نے اور معاملات میں قبول کیا۔اور آپ کا جهاد عورتوں کی آزادی کے متعلق اپنے پورے اثرات اور نتائج ظاہر کرے گا۔اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى ال