انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxviii of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxviii

انوار العلوم جلد ۱۰ ۱۹ تعارف کتب انہیں قسم کھاتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اگر میں دل میں یا ظاہر میں رسول کریم کے خاتم النبین ہونے کا منکر ہوں اور لوگوں کو دکھانے کیلئے اور دھوکا دینے کیلئے ختم نبوت پر پر ایمان ظاہر کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت مجھ پر اور میری اولاد پر ہو اور اللہ تعالیٰ اس کام کو جو میں نے شروع کیا ہوا ہے تباہ و برباد کردے۔ میں یہ اعلان آج نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ میں نے اس عقیدہ کا اعلان کیا ہے۔ اور سب سے بڑا ثبوت اس کا یہ ہے کہ میں بیعت کے وقت ہر مبائع سے اقرار لیتا ہوں کہ وہ رسول کریم اللہ کو خَاتَمَ النَّبِيِّن یقین کرے گا۔ مولوی محمد علی صاحب بھی میرے اس عقیدہ اور میرے اس فعل سے اچھی طرح واقف ہیں باوجود اس کے مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کا یہ شائع کرنا کہ میں ختم نبوت کا منکر ہوں تقوی اور دیانت کے خلاف فعل ہے۔ اور ہر شریف انسان ان کے اس فعل پر انہیں ملامت کرے گا۔“ (۱۳) نہرو رپورٹ اور مسلمانوں کے مصالح (مسلمانوں کے حقوق اور نہرو رپورٹ) ہندوؤں کی سیاسی جماعت کانگرس نے ۱۹ مئی ۱۹۲۸ء کو بمبئی میں ایک آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جس میں ہندوستان کا دستور اساسی تیار کرنے کیلئے پنڈت موتی لال نہرو کی صدارت میں ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی۔ اس کمیٹی کے دس ممبران میں سے صرف دو ممبر مسلمان تھے وہ بھی ہندو اکثریت کے یک طرفہ فیصلوں سے مایوس ہو کر بعد میں عملاً علیحدہ ہو گئے۔ اس کمیٹی کا مجوزہ دستور ”نہرو رپورٹ" کے نام سے کانگرس کی طرف سے ۱۲۔ اگست ۱۹۲۸ء کو سارے ہندوستان کیلئے نمائندہ دستور کی حیثیت سے شائع کیا گیا۔ نہرو رپورٹ دراصل صرف ہندوؤں کی نیابت کرتی تھی۔ چند آدمی ایک جگہ جمع ہو گئے اور کچھ ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملا کر رپورٹ تیار کردی۔ نہ اس میں مسلمان جماعتوں کی