انوارالعلوم (جلد 10) — Page 227
۲۲۷ کے مفاد کی نگہداشت پر اپنی ذاتی آراء کو مقدم کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ چوہدری صاحب کو صاف کہہ دیتے کہ اس وقت ممبروں کا انتخاب مذہبی اصول پر ہو رہا ہے- اگر ہم چار ممبر حاصل کر سکتے تو ہم یقیناً آپ کی لیڈری اور رفاقت کا لحاظ کرتے- لیکن چونکہ ہم چار ممبر حاصل نہیں کر سکتے اور آپ قومی لحاظ سے مجبور ہیں کہ بعض اسلامی مطالبات کی تائید نہ کر سکیں اس لئے ہم تین مسلمان ممبر منتخب کرنے پر مجبور ہیں- میں سمجھتا ہوں کہ چوہدری چھوٹو رام صاحب کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہوتا اور وہ خوشی سے اس صورت میں معاملات کو قبول کرتے- خیر جو کچھ ہوا وہ تو ہوا جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں یہ نقص اس پارٹی سسٹم کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جو شروع کے زمانہ اصلاحات سے مسلمانوں نے اختیار کی ہے- اس وقت مسلمان پارٹی کوئی نہیں بلکہ زمیندار پارٹی ہے پس مسلمان اسلامی مفاد کی اس آزادی سے حفاظت نہیں کر سکتے جس قدر کہ اسلامی پارٹی کی صورت میں کر سکتے تھے- اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس وقت مسلمان پارٹی کے نام سے ووٹ دیئے جاتے تو غالباً کئی خلافتی ممبر بھی اس کے ساتھ ووٹ دینے پر مجبور ہو جاتے- پارٹی کے نظام میں تبدیلی کی ضرورت قطع نظر موجودہ مشکل کے جو پیش آ گئی ہے یہ طریق پارٹیوں کا آئندہ بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور اس کے بد اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ جلد سے جلد مسلمان ممبران کونسل موجودہ پارٹی کے نظام میں تبدیل کریں- اور میرے نزدیک مسلمانوں کی اقلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ہوگا کہ موجودہ پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے- ایک مسلم زمیندار پارٹی ہو اور ایک ہندو زمیندار پارٹی ہو- ہندو پارٹی چوہدری چھوٹو رام صاحب کے ماتحت ہو اور مسلمپارٹی اپنا الگ لیڈر منتخب کرے- جب حکومت کا سوال آئے دونوں پارٹیاں مل کر ملک کی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لانے کی کوشش کریں- لیکن جہاں خالص مذہبی سوال ہو وہاں مسلمپارٹی آزادانہ طور پر اپنے نمائندے منتخب کرے- یورپ میں اکثر ممالک میں اب اتحادیحکومتیں ہیں- ایک پارٹی تو بہت ہی کم حکومت کے قابل ہوتی ہے- پس اس طریق کو اختیار کرنے سے مسلمانوں کی آزادی بھی قائم رہے گی اور موجودہ موقع کی طرح کوئی اور موقع پیش آیا تو انہیں ایسی زک نہ اٹھانی پڑے گی جو اب اٹھانی پڑی ہے- اور ساتھ ہی ایک ہندو پارٹی بھی ایسی رہے گی جس کے ساتھ مل کر وہ حکومت کو ایسے طور پر چلا سکیں گے کہ وہ چند