انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvii of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxvii

انوار العلوم جلد ۱۰ ۱۸ تعارف کتب پڑ جائے جس کے بغیر آج مسلمانوں کا بچاؤ مشکل ہے۔“ (۱۳) اظهار حقیقت حضرت خلیفة المسیح الثانی نے جب ملک بھر میں جلسہ ہائے سیرۃ النبی" منعقد کرنے کی تحریک فرمائی تو جونہی اس کی کامیابی کے آثار نظر آنے لگے مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے اس تحریک کی مخالفت شروع کردی۔ اس مخالفت کی حقیقت کو ظاہر کرنے کیلئے حضور نے ۲۸ جولائی ۱۹۲۸ء کو یہ مضمون تحریر فرمایا جو اظہارِ حقیقت" کے نام سے ٹریکٹ کی صورت میں شائع ہوا۔ حضور فرماتے ہیں کہ اہل پیغام کی یہ دیرینہ عادت ہے کہ وہ ہر اس تحریک کی جو میری طرف سے ہو مخالفت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک اگر ہماری جماعت سے کوئی نیک کام سرانجام پائے گا تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور اس سے ان کے کام کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا یہی خوف دراصل ان کی موجودہ مخالفت کا سبب ہے۔ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے ۷ اجون ۱۹۲۷ء کے جلسہ ہائے یوم خاتم النبین کی مخالفت کے دو اسباب بیان کئے ہیں:- 1- مرزا محمود احمد اور ان کے احباب رسول کریم ال کو خَاتَمَ النَّبِيِّن نہیں مانتے اسلئے ان کا یہ حق نہیں کہ وہ خاتم النبین کی تائید میں جلسے کریں۔ ۲- مولوی صاحب کے عقیدہ کے مطابق عام مسلمان رسول کریم ال کو خاتم النبین مانتے ہیں اور آپ کے بعد کسی نبی کے قائل نہیں۔ اس لئے جماعت احمدیہ خان خاتم النبین کی تائید میں جلسوں کا اعلان کرنا گویا غیر احمدی مسلمانوں کو دھوکا اور فریب دینا تھا۔ حضرت مصلح موعود نے اس ٹریکٹ میں ان امور کی مدلل تردید فرمائی ہے۔ آپ نے خود مولوی محمد علی صاحب کی تحریرات سے ثابت کیا ہے کہ ان کی یہ باتیں غلط اور بے بنیاد ہیں۔ اپنے عقیدہ کو واضح کرتے ہوئے حضور تحریر فرماتے ہیں:۔ میرے نزدیک رسول کریم الله خَاتَمَ النَّبِيِّن ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے۔ اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میرا میں عقید ہے۔ اور میں اس دعوی پر اللہ تعالیٰ کی غلیظ سے غلیظ XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX