انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 223

انوار العلوم جلد ) ۱۰ ۳۲۳ سائمن کمیشن اور پنجاب کو نسل ۔ والا ہو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی قوم کے متعلق ایسی بات کہے گا اور خصوصاً ایسے شخص سے جوان انتخاب کے ذریعہ ہے کونسل میں آیا ہو اور آئندہ اس نے آنا ہو۔ زیادہ سے زیادہ چوہدری چھوٹو رام صاحب سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ یہ کہہ دیں گے کہ زمینداروں کو ان کا پورا حصہ ملے۔ لیکن کیا کیا مسلمان ممبران کونسل کو اب تک یہ بھی نہیں سمجھتے کہ مسلمانوں کے اس مطالبہ سے بھی ہندوؤں نے فائدہ اٹھایا ہے اور کیا انہیں یہ معلوم نہیں کہ ہندو زمیندار بھی اس قدر مل سکتے ہیں کہ بغیر مسلمانوں کو ان کا حق دینے کے زمینداروں کے حقوق کے مطالبہ کو پورا کر دیا جائے۔ اب یہی ہو رہا ہے کہ جس جس صیغہ میں زمینداروں کی تعداد بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے بجائے مسلمان زمینداروں کو بڑھانے کے ہندو زمینداروں کو بڑھایا جا رہا ہے اور پہلی صورت سے صرف اس قدر فرق ہے کہ ہندو شہری کی جگہ ہندو دیہاتی آرہا ہے۔ اور ہندو دیہاتی دلیری سے کام کرنے میں ہندو شہری سے بڑھا ہوا ہے۔ اور شہری اگر خفیہ کام کرتا تھا تو یہ صاف مسلمان امیدوار کو کہہ دیتا ہے کہ میرے دفتر میں مسلمان کے لئے جگہ نہیں ہے۔ غرض چوہدری صاحب سے جو کچھ امید کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ یہ کہہ دیں کہ زمینداروں کو ان کا حق ملنا چاہئے لیکن یہ امید کرنا کہ وہ مسلمانوں کے متعلق یہ کوشش کریں گے کہ ہندوؤں کو ان کے موجودہ اجارہ حکومت سے علیحدہ کر کے ان کی آبادی کے مطابق ہر شعبۂ حکومت میں حصہ دیا جائے ایک حد سے بڑھا ہوا مطالبہ اور عقل سے بعید امید ہے۔ خصوصاً جب کہ چوہدری صاحب کو گو مسلمانوں نے منتخب کیا اور نمائندہ چنا ہے مگر ان کا انتخاب مسلمانوں نے بحیثیت مسلمان نہیں بلکہ بحیثیت زمیندار کیا ہے۔ پس چوہدری صاحب کہہ سکتے ہیں کہ زمینداروں کی تائید میں مجھ سے جو چاہو کہلا لو مگر مسلمانوں کے حقوق کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے کسی اسلامی پارٹی نے نہیں بلکہ زمیندار پارٹی نے منتخب کیا ہے۔ جب حالات یہ ہیں تو سمجھا جا سکتا ہے کہ چوہدری چھوٹو رام صاحب جو کچھ مسلمانوں کی تائید میں کہہ سکتے ہیں وہ اس قدر نہیں کہ جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ لیکن جس امر میں وہ ہماری مخالفت کرنے پر مجبور ہونگے اس کا سخت نقصان پہنچ جائے گا کیونکہ کہا جائے گا کہ یہ مسلمانوں کے نمائندہ کی رائے ہے۔ پس اس انتخاب سے ہم نے اپنی رائے کو نہایت کمزور کر لیا ہے۔ تیسرا نقصان میں اس انتخاب سے یہ پہنچا ہے کہ ہم نے اس انتخاب سے اس دلیل پر تبر