انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvi of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxvi

انوار العلوم جلد ۱۰ 14 تعارف کتب حالتوں میں ان کے عقائد کے خلاف جو اسلام میں خطرناک تفرقہ پیدا کرنے والے ہیں ہر حال میں جنگ کریں گے ۔" اس کے جواب میں حضور نے ۱۸ جولائی ۱۹۲۸ء کو یہ مضمون تحریر فرمایا۔ آپ نے واضح کیا کہ ہم تو صرف مدافعانہ لکھتے ہیں پہل نہیں کرتے۔ ”پیغام صلح" جو صلح جو کچھ ہمارے خلاف لکھتا ہے اور جس طرز سے لکھتا ہے اس سے بیسواں حصہ بھی ہم نہیں لکھتے۔ تعصب کی وجہ سے ان کو ہمارے اچھے کام بھی بڑے نظر آتے ہیں۔ حضور فرماتے ہیں:- حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ تحریر فرمایا تھا کہ پیغام صلح نہیں وہ پیغام جنگ ہے۔ اور آج کھلے لفظوں میں پیغام صلح نے ہمیں پیغام جنگ دیا ہے اور صرف اس بات سے چڑ کر کہ کیوں ہم نے رسول کریم اس کی حفاظت کیلئے اور آپ کے خلاف گالیوں کا سد باب کرنے کیلئے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر ایک ہی دن سینکڑوں جلسوں کا انعقاد کیا ہے۔ میں اس جرم کا مجرم بے شک ہوں اور اس جرم کے بدلہ میں ہر ایک سزا خوشی سے برداشت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اور چونکہ اس اعلان جنگ کا موجب ہمارے عقائد نہیں کیونکہ انہیں عقائد کے معتقد خود مولوی محمد علی صاحب بھی رہے ہیں اور سب فرقہ ہائے اسلام ان کے معتقد ہیں بلکہ ہماری خدمات اسلام ہیں اس لئے میں اس چیلنج کو خوشی سے منظور کرتا ہوں۔“ حضور نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب ان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ دفاع کیلئے تیار ہو جائیں اور ایک سچے مسلمان کی طرح جو بزدل نہیں ہوتا اس سلسلہ میں ہر قربانی کیلئے تیار رہیں۔ آپ نے جماعت کو ہوشیار ہو کر کام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: پس خدا تعالی کیلئے نہ کہ اپنے نفسوں کیلئے ان صداقتوں کے پھیلانے کیلئے مستعد ہو جاؤ جو خدا تعالی نے آپ کو دی ہیں۔ اور اس بغض اور کینہ کو انصاف اور عدل کے ساتھ مٹانے کی کوشش کرو جس کی بنیاد ان لوگوں نے رکھی ہے۔ اور اس فتنہ اور لڑائی کا سد باب کرو جس کا دروازہ انہوں نے کھولا ہے۔ اور کوشش کرو کہ مسلمانوں کے اندر اس صحیح اتحاد کی بنیاد