انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 199

۱۹۹ یہودیوں اور مسیحیوں کا ہوگا- پس ہر مذہب کا انسان اپنے آبائی فخر کو سلامت رکھتے ہوئے اسلام میں داخل ہو سکتا ہے اور اگر داخل نہ ہو تو صلح میں ضرور شامل ہو سکتاہے- اس اصل کے ذریعہ سے آپ نے بندہ کی خدا تعالیٰ سے بھی صلح کرا دی- کیونکہ پہلے مختلف اقوام کے لوگوں کے دل اس حیرت میں تھے کہ یہ کس طرح ہوا کہ خدا تعالیٰ میرا خدا نہیں ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا- اور اللہ تعالیٰ کی نسبت ان جذبات محبت کو پیدا نہیں کر سکتے تھے- جو ان کے دل میں پیدا ہونے چاہئیں تھے- مگر حضرت مسیح موعودؑ نے اس زنگ کو بھی دور کرا دیا- اور جہاں اپنی تعلیم کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کے درمیان صلح کا راستہ کھولا، وہاں خدا اور بندہ کے درمیان صلح کا بھی راستہ کھولا- (۲)دوسرا ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے امن عامہ کے قیام کے لئے یہ اختیار کیا کہ آپ نے تجویز پیش کی کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں- دوسرے مذاہب پر اعتراض نہ کریں کیونکہ دوسرے مذاہب کے عیب بیان کرنے سے اپنے مذہب کی سچائی ثابت نہیں ہوتی بلکہ دوسرے مذہب کے لوگوں میں بغض و کینہ پیدا ہوتا ہے- (۳)تیسرا اصل امن عامہ کے قیام کے لئے آپ نے یہ تجویز کیا کہ ملک کی ترقی فساد اور بغاوت کے ذریعہ سے نہ چاہی جائے، بلکہ امن اور صلح کے ساتھ گورنمنٹ سے تعاون کر کے اس کے لئے کوشش کی جائے- اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت جب کہ عدم تعاون کا زور ہے لوگ اس اصل کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے- لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تعاون سے جس سہولت سے حقوق مل سکتے ہیں عدم تعاون سے نہیں مل سکتے- مگر تعاون سے مراد خوشامد نہیں- خوشامد اور شے ہے اور تعاون اور شے ہے- جسے ہر شخص جو غور و فکر کا مادہ رکھتا ہو آسانی سے سمجھ سکتا ہے- خوشامد اور عہدوں کی لالچ ملک کو تباہ کرتی ہے اور غلامی کو دائمی بناتی ہے مگر تعاون آزادی کی طرف لے جاتا ہے- معاد کے متعلق خیالات کی اصلاح پندرھواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا ہے کہ جزا اور سزا اور باقی امورمعاد کے متعلق ایک ایسی صحیح تحقیق پیش کی ہے کہ جس سے بڑھ کر اور عقل کو تسلی دینے والی تحقیق ذہن میں نہیں آ سکتی- آپ سے پہلے تمام مذاہب میں جزا و سزا اور معاد کے متعلق