انوارالعلوم (جلد 10) — Page 198
۱۹۸ بعض لوگ دوسروں کے بزرگوں کو بھی تسلیم کر لیتے تھے لیکن ایک مصلح یا معلم کی صورت میں نہیں بلکہ ایک بزرگ یا پہلوان کی صورت میں جس نے اپنے زور سے ترقی کی- اور وہ اسی کی ذات تک محدود رہی آگے اس کے ذریعہ سے دنیا پر ہدایت قائم نہیں ہوئی- اور اس کا نور دنیا میں پھیلا نہیں- لوگوں نے اس کی دعاؤں سے یا اس کے معجزات و کرامات سے فائدہ اٹھایا لیکن وہ کوئی تعلیم اور اصلاحی سکیم لے کر نہیں آیا جیسے کہ ایوبؑ اور کرشنؑ کی نسبت یہود اور بعض مسلمانوں کا خیال تھا- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر اس نقطہ نگاہ ہی کو بالکل بدل دیا- آپ نے بعض کی شخصیت کو دیکھ کر بزرگ تسلیم نہیں کیا- اور حضرت مظہر جان جاناں کی طرح یہ نہیں کہا کہ کرشن جھوٹا نہیں معلوم ہوتا وہ ضرور خدا کا بزرگ ہوگا- یا جیسے سناتنی کہتے ہیں کہ محمد) صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک بزرگ تھے مگر ہمارا ہی مذہب سچا ہے- بلکہ آپ نے اس مسئلہ پر اصولی طور پر نگاہ ڈالی-(۱)آپ نے سورج اور اس کی شعاعوں پانیوں اور ان کے اثرات، ہوا اور اس کی تاثیرات کو دیکھا اور کہا جس خدا نے سب انسانوں کو ان چیزوں میں مشترک کیا ہے وہ ہدایت میں فرق نہیں کر سکتا- اور اصولاً سب قوموں میں انبیاء کا ہونا لازمی قرار دیا- پس آپ نے مثلاً حضرت کرشن کو اس لئے نبی تسلیم نہ کیا کہ وہ ایک بزرگ ہستی تھے جنہوں نے ایک تاریکی میں پڑے ہوئے ملک میں سے استثنائی طور پر انفرادی جدوجہد کے ساتھ خدا کا قرب حاصل کر لیا، بلکہ اس لئے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کر کے یہ نتیجہ نکالا کہ ایسا خدا ممکن نہ تھا کہ ہندو قوم کو بھلا دے اور اس کی ہدایت کا کوئی سامان نہ کرے- (۲)دوسرے آپ نے انسان کی فطرت اور اس کی قوتوں کو دیکھا اور بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ جوہر ضائع ہونے والا نہیں، خدا نے اسے ضرور قبول کیا ہوگا- اور اس کو روشن کرنے کے اسباب پیدا کئے ہوں گے- غرض آپ کا نقطہ نگاہ بالکل جداگانہ تھا اور آپ کا فیصلہ چند شاندار ہستیوں سے مرعوب ہونے کا نتیجہ نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور انسانی قابلیت اور پاکیزگی کی بنا پر تھا- اب صلح کا رستہ کھل گیا- کوئی ہندو یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر میں اسلام قبول کروں تو مجھے اپنے بزرگوں کو برا سمجھنا پڑے گا- کیونکہ اسلام ان کو بھی بزرگ قرار دیتا ہے- اور اسلام قبول کرنے میں وہ انہی کی تقلید کرے گا- یہی حال زردشتیوں کنفیوشس کے تابعین اور