انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxiii
انوار العلوم جلد ۱۰ ۱۴ تعارف کتب بے کس جان پر کئے جاتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی آمد سے عورت کو ان مظلموں سے نجات ملی۔ آپ نے یک قلم ان کو مٹادیا اور فرمایا کہ مرد اور عورت بلحاظ انسانیت برابر ہیں جس طرح مرد کو بعض حقوق عورت پر حاصل ہیں اسی طرح عورت کو مرد پر حقوق حاصل ہیں۔ حقوق کی قدرے تفصیل بیان کرنے کے بعد حضور فرماتے ہیں:۔ یہ وہ تعلیم ہے جو رسول کریم ال نے اُس وقت دی جب اس کے بالکل بر عکس خیالات دنیا میں رائج تھے۔ آپ نے ان احکام کے ذریعہ عورت کو اُس غلامی سے آزاد کرا دیا جس میں وہ ہزاروں سال سے مبتلا تھی جس میں وہ ہر ملک میں پابند کی جاتی تھی۔ جس کا طوق ہر مذہب اس کی گردن میں ڈالتا تھا۔ ایک شخص نے ایک ہی وقت ان دیرینہ قیود کو کاٹ دیا اور دنیا بھر کی عورتوں کو آزاد کر دیا۔" (۹) دنیا کا محسن ہندوستان میں رسول کریم اللی کی شانِ اقدس کے خلاف ہندوؤں کی گستاخیاں دن بدن بڑھتی جارہی تھیں۔ ۱۹۲۷ء میں انہوں نے کتاب ”رنگیلا رسول" اور رسالہ ”ورتمان" شائع کرکے حضور کے خلاف زبان درازی میں انتہا کر دی۔ اس کے نتیجہ میں ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی نہایت خطرناک شکل اختیار کر گئی ۔ اس موقع پر الی القاء کے مطابق حضرت مصلح موعود نے نبی کریم ﷺ کی ناموس و حرمت کی حفاظت کیلئے سیرۃ النبی " " کے جلسوں کی بنیاد رکھی اور ارشاد فرمایا کہ ملک بھر میں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی جہاں احمدی موجود ہیں ہر سال یہ جلسے منعقد کئے جائیں اور ان میں آنحضرت ا کی پاک سیرت اور ارفع شان کھول کر بیان کی جائے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اس مقدس رسول نے انسانیت پر کیا کیا احسان کئے اور ان کی بہتری کیلئے کیا کیا قربانیاں دیں۔ آپ نے فرمایا کہ رسول کریم ا کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور دار لیکچر دیئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کی شان اور آپ کی پاکیزہ زندگی سے آگاہ ہو جائے اور کسی کو آپ کے خلاف زبان درازی کی جرأت نہ رہے۔ فرمایا کہ بہتر طریق یہی ہے کہ رسول کریم اللہ کی زندگی کے اہم شعبوں کو