انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxi
انوار العلوم جلد ۔) بلکہ دوسری زبانیں بھی پڑھائی جانی ضروری ہیں۔ ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی، بعض کو جرمن، بعض کو سنسکرت، بعض کو فارسی، بعض کو تعارف کتب روسی، بعض کو سپینش وغیرہ زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دینی چاہئیے۔" حضور نے جامعہ احمدیہ کے ابتدائی طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا کہ ان کے سامنے عظیم الشان کام اور بہت بڑا مستقبل ہے۔ انہیں چاہیے کہ اپنے اعمال کردار اور قربانیوں سے ایسی بنیاد رکھیں کہ آئندہ اس پر عظیم عمارت تعمیر ہو سکے۔ ان کے سامنے ایک ہی مقصد اور ایک ہی غایت ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا کلمہ بلند ہو۔ آخر میں حضور نے دعا کروائی کہ اللہ تعالیٰ جامعہ میں برکت دے۔ طالبعلموں کا حامی و ناصر ہو اور انہیں توفیق عطا کرے کہ وہ اپنے اعلیٰ مقصد اور مدعا میں کامیاب و کامران ہوں۔ (۷) سائمن کمیشن اور پنجاب کو نسل سائمن کمیشن کے پنجاب آنے پر پنجاب کو نسل کے ممبران نے فیصلہ کیا کہ وہ کمیشن سے تعاون کرے گی۔ نمائندگی کیلئے کونسل نے سات ممبروں پر مشتمل ایک کمیٹی کا انتخاب کیا۔ ان سات میں سے صرف دو ممبر مسلمان تھے۔ اس پر مسلم اخبارات اور پبلک میں اظہار ناراضگی کیا گیا۔ کیونکہ مسلمان جو صوبہ میں بچپن فیصد تھے انہیں تھیں فیصدی سے بھی کم نمائندگی ملی اور ہندو جن کی آبادی صوبہ میں اٹھائیس فیصد تھی انہیں بیالیس فیصدی نمائندگی دے گی گئی۔ اس موقع پر حضور نے (۲۱) مئی ۱۹۲۸ء کو یہ پمفلٹ تحریر فرمایا۔ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے حضور نے مسلمانوں کی ناراضگی کو درست قرار دیا تا ہم فرمایا کہ اگر اس بناء پر مسلمان ممبروں کو استعفاء دینے پر مجبور کیا گیا تو بھی کوئی مفید تبدیلی نہیں ہو سکے گی اور انجام کار مسلمان ہی نقصان میں رہیں گے۔ حضور نے تجویز پیش فرمائی کہ اس صورت حال پر غور کرنے کیلئے مسلمان نمائندوں کا ایک اجلاس بلایا جائے جس میں کونسل اور مقتدر اسلامی اخبارات کے نمائندے بھی شامل ہوں۔ اس اجلاس میں غور و فکر کرکے آئندہ کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ حضور کا یہ مضمون اتنا بروقت اور مؤثر تھا کہ "انقلاب" اخبار نے بھی اس کی تائید کی