انوارالعلوم (جلد 10) — Page xx
انوار العلوم جلد ۱۰ تعارف کتب شخص حضور کی متفرق کتب سے ان خوبیوں کو جمع کر کے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کر دے تو یہ ایک اچھا کام ہو گا۔ (1) جامعہ احمدیہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو ابتداء سے ہی یہ خیال تھا کہ جماعت احمدیہ کی عالمگیر تبلیغی و تربیتی ضروریات کیلئے مدرسہ احمدیہ کو ترقی دے کر اسے ایک عربی کالج تک پہنچانا ضروری ہے۔ چنانچہ حضور نے سکیم تیار کرنے کیلئے ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔ انجام کار اپریل ۱۹۲۸ء میں جامعہ احمدیہ کے نام سے ایک مستقل ادارہ قائم کیا گیا۔ مدرسہ احمدیہ کی مولوی فاضل کلاس کو اس نئے ادارہ میں منتقل کر دیا گیا۔ جامعہ احمدیہ کے درجہ اولی اور ثانیہ میں امتحان مولوی فاضل کی تیاری کرائی جانے لگی۔ اور درجہ ثالثہ و رابعہ میں مبلغین کی کلاس کی۔ ابتدائی طور پر جامعہ احمدیہ اس کو ٹھی میں شروع ہوا جو گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ پھر انتظامات مکمل ہونے پر ۲۰ مئی ۱۹۲۸ء کو حضور نے اس کا افتتاح فرمایا۔ حضور نے اس نئے ادارہ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا :- خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا تا کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ کے منشاء کو پورا کرنے والے ہوں بے شک اس مدرسہ سے نکلنے والے بعض نوکریاں بھی کرتے ہیں مگر یہ اس لئے نہیں بنایا گیا کہ اس سے تعلیم حاصل کرنے والے نوکریاں کریں بلکہ اصل مقصد یہی ہے کہ مبلغ بنیں۔ اب یہ دوسری کڑی ہے کہ ہم اس مدرسہ کو کالج کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ تبلیغ کے لحاظ سے یہ کالج ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں نہ صرف دینی علوم پڑھائے جائیں