انوارالعلوم (جلد 10) — Page 131
۱۳۱ کی فاتحہ دلانی تھی- وہ کچھ خرچ کرنا نہیں چاہتا تھا اور مولوی بغیر امید کے فاتحہ پڑھنے کو تیار نہ تھے- آخر اس نے یہ تدبیر کی کہ مولویوں کو لے کر ایک حلوائی کی دکان پر پہنچا اور ان سے کہا- فاتحہ پڑھو- انہوں نے سمجھا کہ اس کے بعد مٹھائی تقسیم ہو گی- مگر جب وہ فاتحہ پڑھ چکے- تو وہ خاموشی سے وہاں سے چل دیا- یہی حالت ان لوگوں کے نزدیک خدا کی ہے- اگر خدا کسی چیز کا خالق ہی نہیں ہے تو بدلے کہاں سے آئیں گے؟ اور وہ کہاں سے دے گا خواہ آریہ محدود ہی بدلہ مانیں لیکن بدلہ مانتے تو ہیں اور بدلہ خدا تعالیٰ نہیں دے سکتا ہے جب کہ وہ خالق ہی نہ ہو- جو خود کنگال ہو اس نے بدلہ کیا دینا ہے- (۴)چوتھی قسم کے لوگ وہ تھے جو خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے ہی منکر تھے ان لوگوں کو حضرت مسیح موعودؑ نے خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت اور مالکیت سے جواب دیا- مثلاً مسیحیوں کے مذہب کی بنیاد ہی اس امر پر ہے کہ چونکہ خدا عادل ہے اس لئے وہ کسی کا گناہ معاف نہیں کر سکتا- پس اسے دنیا کے گناہ معاف کرنے کے لئے ایک کفارہ کی ضرورت پیش آئی تا اس کا رحم بھی قائم رہے اور عدل بھی- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا بے شک خدا عادل ہے- مگر عدل اس کی صفت نہیں- عدل صفت اس کی ہوتی ہے جو مالک نہ ہو- مالک کی صفت رحم ہوتی ہے- ہاں جب مالک کا رحم کام کے برابر ظاہر ہو تو اسے بھی عدل کہہ سکتے ہیں- پس چونکہ خدا تعالیٰ مالک اور رحمن بھی ہے اس لئے اس کا دوسری چیزوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا- دیکھو خدا تعالیٰ نے انسان کو کان، ناک، آنکھیں بغیر اس کے کسی عمل کے دی ہیں- کیا کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ اس کے عدل کے خلاف ہے- پس اگر خدا بغیر انسان کے کسی استحقاق کے یہ چیزیں اسے دے سکتا ہے تو پھر وہ انسان کے گناہ کیوں معاف نہیں کر سکتا- اسی طرح وہ مالک ہے اور بہ حیثیت مالک ہونے کے معاف کرنے سے اس کے عدل پر حرف نہیں آتا- ایک جج بے شک عام حالات میں مجرم کا جرم معاف نہیں کر سکتا- کیونکہ اسے فیصلہ کا حق پبلک کی طرف سے ملتا ہے اور دوسروں کے حق معاف کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہوتا- لیکن خدا تعالیٰ اگر معاف کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ اسے فیصلہ کا حق دوسروں کی طرف سے نہیں ملا بلکہ اسے یہ حق ملکیت اور خالقیت کی وجہ سے اپنی ذات میں حاصل ہے- پس اس کا عفو عدل کے خلاف نہیں- (۵) پانچویں قسم کے وہ لوگ تھے جو خدا کی صفت خالقیت کو ایک زمانہ تک محدود کرتے