انوارالعلوم (جلد 10) — Page 125
۱۲۵ نہیں ہیں- بلکہ جو اسلام کے دشمن ہیں وہ بھی اقرار کرتے ہیں- ابھی کلکتہ میں ڈاکٹر زویمر کے لیکچر ہوئے- یہ ڈاکٹر صاحب عیسائیوں میں سے سب سے زیادہ اسلام کے متعلق واقفیت رکھنے کے مدعی ہیں- مصر میں ایک رسالہ ’’مسلم ورلڈ‘‘ نکالتے ہیں- پچھلی دفعہ جب آئے تو قادیان بھی آئے تھے اور یہاں سے جا کر انہوں نے بعض دوسرے شہروں میں اشتہار دیا تھا کہ وہ ڈاکٹرزویمر جو قادیان سے بھی ہو آیا ہے ان کا لیکچر ہوگا- کچھ عرصہ ہوا وہ کلکتہ گئے اور وہاں انہوں نے لیکچر دیا- مولوی عبدالقادر صاحب ایم اے پروفیسر جو میری ایک بیوی کے بھائی ہیں، انہوں نے کچھ سوال کرنے چاہے- اس پر دریافت کیا گیا کہ کیا آپ احمدی ہیں؟ انہوں نے کہا- ہاں- اس پر کہہ دیا گیا ہم احمدیوں سے مباحثہ نہیں کرتے- مصر میں انہی صاحب کی کوشش سے کئی آدمی مسیحی بنا لئے گئے ہیں- اتفاقاً ایک شخص عبدالرحمن صاحب مصری کو جو ان دنوں مصر میں تھے مل گیا- انہوں نے اسے احمدی نقطہ نگاہ سے دلائل سمجھائے- وہ پادری زویمر کے پاس گیا اور جا کر گفتگو کی- اور کہا حضرت مسیح زندہ نہیں بلکہ قرآن کریم کے رو سے فوت ہو گئے- اس پادری نے کہا کہ کسی احمدی سے تو تم نہیں ملے؟ اس مصری نے کہا- ہاں ملا ہوں- یہ جواب سن کر وہ گھبرا گئے اور آئندہ بات کرنے سے صاف انکار کر دیا- غرض خدا کے فضل سے ہماری جماعت کو مذہبی دنیا میں ایسی اہمیت حاصل ہو رہی ہے کہ دنیا حیران ہے اور یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ہے- اور آپ کے اس کام کا کوئی انکار نہیں کر سکتا- یہ باتیں جو میں نے بیان کی ہیں یہ بھی چونکہ ایمانیات سے تعلق رکھتی ہیں اس لئے میں اور نیچے اترتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علمی کام بیان کرتا ہوں- حضرت مسیح موعودؑ کا تیسرا کام تیسرا کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰٰ کی صفات کے متعلق لوگوں کے خیالات میں جو فساد پڑ گیا تھا، اس کی آپ نے اصلاح کی ہے- مذہب میں سب سے بڑی ہستی خدا تعالیٰ کی ہستی ہے- مگر اس کی ذات کے متعلق مسلمانوں میں اور دوسرے مذہبوں میں اتنا اندھیر مچا ہوا تھا اور ایسی خلاف عقل باتیں بیان کی جاتی تھیں کہ ان کی موجودگی میں اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے کسی کو توجہ ہی نہیں ہو سکتی تھی- اس خرابی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دور