انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 124

۱۲۴ ہماری طرف سے اسلام کی تبلیغ ہوئی- اور اب تو لوگ ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارے میں آکر تبلیغ کرو چنانچہ ایران سے مطالبہ آیا ہے کہ بہائیوں کے مقابلہ کیلئے احمدیوں کو آنا چاہئے- بعض لوگ آریوں کا کام مقابلہ میں پیش کرتے ہیں مگر ان لوگوں کے مالوں اور ہمارے مالوں کو دیکھو- پھر ان کے کاموں کی وسعت اور ہمارے کاموں کی وسعت کو دیکھو- ہندوؤں میں سے بعض ایسے مالدار ہیں کہ وہ اکیلے اتنا روپیہ دے سکتے ہیں جتنا ہماری ساری جماعت مل کر سارے سال میں نہیں دے سکتی- اور ایک دو نہیں بلکہ خاصی تعداد میں ایسے لوگ ان میں موجود ہیں- مگر باوجود اس کے ساری ہندو قوم نے مل کر علاقہ ملکانا میں حملہ کیا- مگر جب ہمارے مبلغ پہنچے تو سب بھاگ گئے اس وقت دہلی میں ہندو مسلمانوں کی ایک کانفرس ہوئی جس میں یہ سوال پیش ہوا کہ آؤ صلح کر لیں- اس کانفرنس کو منعقد کرنے والے حکیم اجمل خان صاحب، ڈاکٹر انصاری، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی ابوالکلام صاحب آزاد تھے اور ہندوؤں کی طرف سے شردھانند صاحب وغیرہ- جیسا کہ علماء کا ہمارے متعلق طریق عمل رہا ہے انہوں نے کہا کہ احمدیوں کو بلانے کی کیا ضرورت ہے اور وہ خود صلح کی شرائط طے کرنے لگے- لیکن شردھانندجی نے کہا کہ احمدی بھی اس علاقہ میں کام کر رہے ہیں، ان کو بلانا چاہئے- اس پر میرے نام حکیم اجمل خان صاحب، ڈاکٹر انصاری اور مولوی ابوالکلام صاحب کا تار آیا کہ اپنے قائم مقام بھیجئے- میں نے یہاں کے آدمیوں کو بھیجا- اور انہیں بتا دیا کہ ملکانوں کے متعلق سوال اٹھے گا اور کہا جائے گا کہ ہندو مسلمان اپنی اپنی جگہ بیٹھ جائیں مگر ہندوؤں نے بیس ہزار ملکانوں کو مرتد کر لیا ہے اس لئے جب یہ سوال پیش ہو تو آپ کہیں کہ ہمیں ۲۰ ہزار مرتدوں کو کلمہ پڑھا لینے دیجئے، تب اس شرط پر صلح ہوگی اور ہم وہاں سے واپس آ جائیں گے- ورنہ جب تک ایک ملکانا بھی مرتد رہے گا ہم وہاں سے نہیں ہٹیں گے- چنانچہ جب ہمارے آدمی کانفرنس میں پہنچے تو یہی سوال پیش ہوا- اور انہوں نے یہی بات کہی جو میں نے بتائی تھی- اس پر مولویوں نے کہا احمدیوں کی ہستی ہی کیا ہے ان کو چھوڑ دیجئے اور ہم سے صلح کیجئے- شردھانندجی نے اس وقت ان سب کے سامنے کہا آپ کے اگر پچاس آدمی بھی وہاں ہوں تو ہمیں ان کی پرواہ نہیں- لیکن جب تک ایک بھی احمدی وہاں ہوگا صلح نہیں ہو سکتی- احمدیوں کو پہلے اس علاقہ سے نکالو اور پھر صلح کے لئے آگے بڑھو- غرض جماعت احمدیہ کے کام کی اہمیت کا ان لوگوں کو بھی اقرار ہے جو جماعت میں داخل