انوارالعلوم (جلد 10) — Page 101
انوار العلوم جلد 10 ۱۰۱ تقریر دلپذیر ہے ایک بہت بڑا ظلم ہندو پر چارکوں نے یہ بھی کیا کہ وہ انہیں بتاتے تھے کہ دیکھو مسلمان ہم سے ادنیٰ ہیں اور ہم ان سے اعلیٰ ہیں کیونکہ ہم ان کے ہاتھ کی چھوئی ہوئی چیز نہیں کھاتے مگر وہ ہمارے ہاتھوں سے لے کر کھا لیتے ہیں۔ اس پر ہزاروں ملکا نے اس لئے مرتد ہو گئے کہ وہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر اعلیٰ ہو جائیں گے۔ مسلمانوں نے سات سو سال تک ہندوؤں کا لحاظ کیا۔ مسلمان جب بادشاہ تھے اس وقت بھی انہوں نے درگزر کیا اور کہا ہندو اگر ان کے ہاتھ کا نہیں کھاتے تو نہ کھائیں۔ مگر اب مسلمان ہندوؤں کے اس طرز عمل کی وجہ سے قلاش ہو گئے ہیں اور حالت یہاں تک پہنچ گئی۔ کہ اسلام کی خدمت کے لئے ۲۵ لاکھ روپیہ بھی جمع نہیں ہو سکتا۔ کیوں؟ اس لئے کہ مسلمانوں کے پاس ں روپیہ ہے نہیں۔ مسلمانوں میں کئی لوگ لاکھوں اور ہزاروں ہزاروں کی جائدادیں رکھنے والے ہیں مگر باوجود اس کے ہندوؤں کے مقروض ہیں پس جب کہ مسلمانوں کی حالت یہاں تک پہنچ گئی۔ اور ہندو چھوت چھات کی وجہ سے اپنی برتری جتلا کر نا واقف اور جاہل مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں تو ضروری ہے کہ مسلمان اس طرف متوجہ ہوں۔ پس میں دوستوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کو خصوصیت سے جاری رکھیں گے اور ہر جگہ ہر مسلمان کے کان میں یہ بات ڈال دیں گے کہ اس تحریک پر عمل کرنے سے تمہارا ہی فائدہ ہے۔ ہماری : ہماری جماعت میں تو تاجر پیشہ لوگ بہت کم چھوت چھات کی تحریک کے کامیاب ہونے ہیں زمیندار اور ملازمت پیشہ زیادہ ہیں۔ اس وجہ سے۔ دوسرے مسلمانوں کو ہی فائدہ ہو گا۔ کم از کم تین۔ تین چار کروڑ روپیہ سالانہ مسلمانوں کا اس تحریک پر عمل کرنے سے بچ سکتا ہے اور مسلمانوں جیسی کنگال قوم کے لئے اتنا روپیہ بچنا بہت بڑی بات ہے۔ میں نے عورتوں کو بتایا تھا کہ یہاں قادیان میں مسلمان مٹھائی والا کوئی نہ تھا اس لئے ہم نے مٹھائی خرید نا بند کر دیا اور سات سال تک یہ بندش رہی یہ بتا کر میں نے ان کو یقین دلایا کہ اتنے عرصہ میں کوئی ایک آدمی بھی مٹھائی نہ خریدنے کی وجہ سے نہ مرا۔ نہ ہمارے بچوں کی صحت کو اور نہ ہماری صحت کو کوئی نقصان پہنچا بلکہ فائدہ ہی ہوا کہ پیسے بچ گئے۔ میں سمجھ نہیں سکتا کھانے پینے کی چیزیں غیر مسلموں سے نہ خریدنے میں کونسی مصیبت آجاتی ہے۔ پوری کچوری نہ کھائی روٹی کھائی۔ کیا ہندوؤں کی بنائی ہوئی کچوری میں اتنا مزا ہے کہ بے شک دین جائے غیرت جائے مگر پوری کچوری نہ صوصیت سے یہ تحریک کرتا ہوں کہ ہندوؤں کی جائے۔ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو خصوصیت کی چھوٹی ہوئی چیزیں اس وقت تک نہ کھانی چاہئیں جب تک ہندو بھی علی الاعلان عام مجلسوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے لے کر وہ چیزیں نہ کھائیں۔ ہم مندی نہیں ہم کسی کے دشمن نہیں ہم بائیکاٹ نہیں کرنا پردو