انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 99

۹۹ طرف پوری توجہ نہیں کی اور جہاں کی وہاں دوسرے مسلمانوں کی بے توجہی سے ہمارے دوست گھبرا گئے۔حالانکہ ریزرو فنڈ میں علاوہ شدھی وغیرہ کا مقابلہ کرنے کے اور بھی کئی قسم کے فائدے ہیں۔کیا یہی ایک بہت بڑا فائدہ نہیں ہے کہ جب تم کسی غیراحمدی کے پاس ریزرو فنڈ کے لئے جاؤ گے تو وہ پوچھے گا یہ کیسا فنڈ ہے اس پر اسے بتایا جائے گا کہ اس کی غرض اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کے فوائد کی نگہداشت ہے۔اس پر وہ پڑھے گا اس بات کا کیا اعتبار ہے کہ یہ فنڈ محفوظ رکھا جائے گا اور جو اغراض بیان کئے گئے ہیں ان کے لئے دیانتداری سے خرچ ہو گا اس پر اسے سلسلہ کا انتظام بتایا جائے گا اور اس طرح لوگ سلسلہ کے حالات سے واقف ہونگے۔اور جو شخص انکار کرے گا اس کے پاس دوست پھر اگلے ماہ میں جائیں گے اور اس طرح جاتے جاتے تعلقات مضبوط ہو جائیں گے اور جو لوگ اس فنڈ میں حصہ لیں گے وہ جماعت کے کاموں اور اس کے نظام کی طرف بھی توجہ کریں گے اور حالات معلوم کریں گے اور اس طرح انہیں جماعت کی خدمات کا علم ہوتا رہیگا۔میں سمجھتا ہوں اس ریزرو فنڈ کے لئے ضرور کوشش کرنی چاہئے اور چاہے ایک پیسہ بھی نہ ملے اس طرح لاکھوں آدمیوں سے تعلقات پیدا ہو جائیں گے۔مگر سب لوگ ایک سے نہیں ہوتے۔کئی لوگوں نے اس فنڈ میں رو پے دیا بھی ہے اور جو لوگ روپیہ دیں گے پھر وہ دیکھیں گے کہ کس طرح وہ روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اور اس کے لئے وہ ہمارا لٹریچر پڑھیں گے اور ان پر ہماری جماعت کی نیک نیتی کھلتی جائے گی۔میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت کا ایک ہزار آدمی اس بات کا ذمہ لے لے کہ سال میں سَو سے لے کر ہزار تک اس فنڈ کے لئے روپیہ جمع کر دے گا تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔اور اگر سَو آدمی ایسا کھڑا ہو جائے جو ہزار سے لے کر پانچ ہزار تک سال میں جمع کر دے تو اچھی خاصی رقم جمع ہو سکتی ہے۔اور ہماری جماعت میں خدا کے فضل سے ایسے آدمی موجود ہیں جو اتنا اثر رکھتے ہیں۔اس سال چھٹیوں کے ایام میں ہمارے سکولوں کے طلباء ڈیڑھ ہزار کے قریب چندہ جمع کر کے لائے اگر کچھ طلباء جن کی تعداد سَو سے کم ہی ہو گی ایک ماہ میں ڈیڑھ ہزار روپیہ لا سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری جماعت کے بااثر لوگ اس کام میں لگ جائیں تو انہیں کامیابی نہ ہو۔چنده لانے والے طلباء میں میرا لڑکا ناصراحمد بھی تھا جو ایک سو چھتیس روپیہ لایا تھا حالانکہ اسے کبھی اس سے پہلے دوسرے لوگوں سے چندہ لینے کا موقع نہ ملا تھا۔اسی طرح حضرت خلیفہ اول کے لڑکے میاں عبدالمنان بھی چالیس پچاس روپیہ کے قریب لائے تھے۔