انوارالعلوم (جلد 10) — Page 98
۹۸ احمدی بے کار نہ رہے جن کو کوئی کام نہ ملے انہیں مختلف پیشے سکھلا دیئے جائیں۔اگر کوئی شخص مہینہ میں دو روپیہ ہی کما سکتا ہے تو وہ اتنا ہی کمائے کیونکہ بالکل خالی رہنے سے کچھ نہ کچھ کما لیناہی اچھا ہے۔دیکھو حضرت علیؓ کس شان کے انسان تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت گھاس کاٹ کر لاتے اور اسے فروخت کرتے تھے۔تو کوئی کام جس سے کسب حلال ہو کرنے میں عار نہیں ہونی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی احمدی بیکار اور سست نہ ہو۔ساتویں بات یہ ہے کہ پچھلے دنوں کی کوششوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ مسلمانوں پر اتنی مردنی چھائی ہوئی ہے کہ ان کی زندگی کی صورت ان کے احمدی ہونے میں ہی ہے۔مسلمانوں کو دین سے بالکل بے توجہی ہے اور وہ دین کے لئے کوئی قربانی اور ایثار کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔دین کے لئے اگر کوئی جماعت قربانی کرنے والی ہے تو وہ احمدی جماعت ہی ہے۔پس اسلام کی ترقی اور باقی قوموں کی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے فرقوں کے لوگوں میں احمدیت کی تبلیغ کی جائے اور کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے لوگ اس پر ناراض ہوں۔ہم انہیں کہتے ہیں تم ہمیں تبلیغ کرو ہم نہیں کرتے ہیں۔ہم اس بات کے لئے تیار میں کہ کسی مذہب کا کوئی شخص آئے اور اپنی باتیں ہمیں سنائے۔اسی طرح ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی باتیں ان کو سنائیں۔یہ باتیں تربیت کے لحاظ سے ضروری ہیں اس کے بعد میں دوستوں کو ریزرو فنڈ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس فنڈ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ بسا اوقات ایسے واقعات ہیں کہ جو عام مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کی طرف توجہ کرنا عام مسلمانوں کی بھلائی اور بہتری کے لئے ضروری ہوتا ہے مگر ہماری جماعت کا بجٹ چونکہ محدود ہوتا ہے اور ہم اپنے سلسلہ کی ضروریات سے اس قدر روپیہ نہیں بچا سکتے جس سے عام اسلامی معاملات کی درستی کے لئے کافی رقم نکال سکیں جیسے کہ شدھی کا مقابلہ یا تمدنی اور اقتصادی تحریکات ہیں یا ادنی ٰ اقوام کی تبلیغ ہے اور چونکہ یہ کام اس قسم کے ہیں کہ انہیں ہم ہی بہتر کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس تجربہ کار مبلّغ اور کارکن موجود ہیں جو دوسری جماعتوں کے پاس نہیں۔پس اگر ہم اس کام کو نہ کریں تو اسلام کو اور مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور اگر قرض لے کر کریں تو جماعت کی مالی حالت خراب ہو جاتی ہے اس وجہ سے ہم نے۳۵لاکھ ریزرو فنڈ کی تحریک کی ہے تاکہ اصل رقم محفوظ رہے اور اس کی آمد اہم کاموں پر خرچ کی جائے چونکہ یہ عام مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے کاموں کے متعلق تحریک تھی اس لئے میں نے اجازت دی تھی کہ احباب دوسرے مسلمانوں کو بھی اس میں شامل کر لیں مگر جماعت نے اس کی