انوارالعلوم (جلد 10) — Page xiv
انوار العلوم جلد ۱۰ تعارف کتب یہ امر قانون اساسی میں داخل کروانا چاہیے کہ قوموں کی مذہبی آزادی کو کسی قانون یا اصلاح کی آڑ میں محدود نہیں کیا جاسکے گا۔ ے۔ تبلیغ کی ہر وقت ہر قوم کو پوری پوری آزادی ہوگی۔ جن صوبوں میں اردو رائج ہے ان میں اردو زبان قانونی زبان کی حیثیت سے ہمیشہ برقرار رہے گی۔ مسلمانوں کو اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی پوری آزادی ہوگی۔ آخر میں حضور نے مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:- وو ہر قوم کی حالت اس کی اپنی کو ششوں سے بدلتی ہے۔ جو قوم یہ چاہتی ہے کہ دوسرے لوگ ہماری حالت کو بدلیں اور ہمیں ابھاریں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ کمیشن کا موقع بے شک ایک اچھا موقع ہے اور اس سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لیکن یاد رکھنا چاہیئے کہ دنیا بھر کی کمیشنیں بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں جب تک ہم پختہ ارادہ اور عقد ہمت کے ساتھ اپنی اصلاح کیلئے خود آپ کھڑے نہ ہو جائیں۔“ (۳) افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء ۲۶ دسمبر ۱۹۲۷ء جلسہ سالانہ کے پہلے روز افتتاحی خطاب میں حضور نے احباب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیان کوئی سیرو تفریح کا مقام نہیں دنیوی ساز و سامان کے لحاظ سے یہ کوئی کشش اپنے اندر نہیں رکھتا۔ مرکزی مقامات سے یہ دور ہے۔ پس آپ لوگ اگر یہاں آئے ہیں تو صرف اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے احیائے اسلام کیلئے یہاں ایک بندہ کو کھڑا کیا اور اُس نے کہا کہ میں دنیا کی اصلاح کیلئے آیا ہوں اور میں اس میں کامیاب ہو جاؤں گا کیونکہ خدا تعالی کی مدد میرے ساتھ ہے۔ آپ کی اس آواز پر رشتہ داروں نے نفرت کی ہنسی ہنسی۔ گاؤں والوں نے نفرت کا اظہار کیا۔ ملک کے لوگوں نے اسے حقارت سے دیکھا اور مونہ موڑ لیا۔ لیکن اس بندہ خدا نے