انوارالعلوم (جلد 10) — Page 95
۹۵ ہے۔اس کا فرض ہے کہ اگر کسی میں کوئی عیب دیکھتا ہے یا کسی کے متعلق کوئی الزام سنتا ہے تو امیر کے پاس جائے اور اسے بتائے کہ فلاں آدمی یہ بات کا ہے تاکہ وہ اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کر سکے نہ کہ وہ خود اس قسم کی باتوں کو پھیلاتا رہے۔حدیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافق کی علامت ہے۔چنانچہ آتا ہے۔من قال ھلك الناس فهو اھلکھما ۶؎ جس نے کہا کہ لوگ بگڑ گئے وہی ان کو پکاڑنا چاہتا ہے اور وہ منافق ہوتا ہے اس قسم کی باتیں کرنے والے اسی وقت پیدا نہیں ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ تھے اخباروں میں اس قسم کے لوگوں کی باتیں موجود ہیں میں نے ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ کے ایک الحکم میں لکھا دیکھا ہے کہ مالیر کوٹلہ کے ایک شخص کے متعلق اعلان کیا گیا تھا کہ وہ منافق ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اچھے ہیں مگر جماعت بگڑ گئی ہے۔دراصل ایسے لوگوں کا یہ محض بہانہ ہوتا ہے تاکہ لوگ سمجھیں وہ سلسلہ سے اخلاص رکھتے ہیں مگر جو برائی دیکھتے ہیں اسے بیان کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے وقت ڈاکٹر عبدالحکیم نے بھی لکھا تھا کہ مولوی نور الدین صاحب اور ایک دو اور آدمی اچھے ہیں باقی سارے خراب ہو گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اسے لکھا تم خود بگڑ گئے ہو ورنہ میری جماعت میں ہزاروں ایسے ہیں جو صحابہ کا نمونہ ہیں۔پس ایسے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے وقت بھی پائے جاتے تھے۔ان کے متعلق خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے مگر اس کے ساتھ ہی میں ایک نصیحت بھی کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میرے اس کہنے کا یہ مطلب نہیں کہا امراء اور دوسرے ذمہ دار لوگ احمدیوں کی کمزوریوں اور عیوب سے آنکھیں بند کر لیں جس طرح یہ کہنے سے کہ سارے لوگ گندے ہو گئے ہیں عیوب پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح یہ کہنے سے کہ سارے کے سارے اعلی ٰدرجہ کے متقی ہیں کسی میں کوئی کمزوری نہیں گند پیدا ہو جاتا ہے۔جو عیوب ظاہر میں نظر آئیں ان کے دور کرنے کا انتظام کرنا چاہئے۔ہاں تجّسس اسلام میں جائز نہیں۔منافق افراد کے نقائص کو افراد تک نہیں محدود سمجھتا بلکہ وہ ساری جماعت پر الزام لگاتا ہے اس کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ امراء اور سیکرٹریان تربیت خاص طور پر خیال رکھیں۔اور اگر کسی میں ظاہر طور پر کوئی نقص نظر آئے تو اسے علیحدگی میں محبت اور پیار سے سمجھائیں خصوصیت سے ان باتوں کی نگرانی کریں۔