انوارالعلوم (جلد 10) — Page 90
۹۰ تعالی پہلے ہی بتا دیتا ہے۔اس فتنہ کے متعلق بھی کئی سال ہوئے ایک رویا میں نے دیکھی تھی اور وہ رؤیا کئی آدمیوں کو سنائی گئی تھی۔پہلے وہ اور جگہ چسپاں کی گئی مگر یہاں بھی لگتی ہے وہ رؤیا میں نے شملہ میں ہی دیکھی تھی اور اسی کا یہ اثر تھا کہ میں اپنے ہر مضمون پر’’ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ‘‘ کا فقرہ لکھتا ہوں۔جو کچھ میں نے دیکھا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے۔میں شملہ کی ایک وادی میں سے گزر رہا ہوں جہاں کئی طرح کے جِنّات ہیں اور وہ اشتعال انگیز طریق سے اپنی باتوں کی طرف مجھے متوجہ کرنا چاہتے ہیں اس وقت مجھے بتایا گیا کہ تم ان کی طرف متوجہ نہ ہونا اور’’ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتے جانا۔یہ ۱۹۱۳ء میں شملہ میں مجھے خواب آئی تھی جو غیر مبائعین کے فتنہ پر چسپاں کی گئی تھی۔مگراب جب کہ یہ فتنہ شملہ میں اٹھا اور میں اسی پہاڑی پر اترا ہوا تھا جہاں ۱۴ سال قبل یہ خواب آئی تھی تو معلوم ہوا کہ وہ اس فتنہ کے متعلق بھی تھی اور اس طرح خدا تعالی نے پہلے ہی اس سے اطلاع دے دی تھی۔مجھے ان لوگوں میں سے ایک نے لکھا ہے۔اب دیکھیں گے کس طرح جماعت ترقی کرتی ہے اور یہ بھی طنزاً لکھا ہے کہ اب خوب چندے آئیں گے (اس موقع پر حضور کی خدمت میں ایک تار پیش کیا گیا جسے پڑھ کر فرمایا) ابھی برماسے تار آیا ہے کہ اگر فتنہ انگیزوں سے مباہلہ کیا جائے تو ہمیں بھی شامل کیا جائے۔ان کو تو میں جزاكم الله کہتا ہوں مگر مباہلہ کا مطالبہ کرنے والوں سے کہتا ہوں۔’’ایاز قدر خور بشناس" - مباہلہ کے لئے بھی حیثیت ہونی چاہے۔چند سال ہوئے جب رام مورتی پنجاب میں آیا تو ایک چوہڑے نے اسے چیلنج دیا کہ اس کے ساتھ صبح سے لے کر شام تک جھاڑو دینے میں مقابلہ کرلے۔اس کے متعلق اگر کوئی کہے رام مورتی نے بُزدلی دکھائی کہ ایک چوہڑے کے مقابلہ میں جھاڑو نہ دیا تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔یہی حال ان لوگوں کا ہے۔یہ دعویٰ تو انسان کا ہے مگر اس کے برخلاف خدا تعالی نے مجھے بتایا ہے کہ شوکت و سلامتی سعادت اور ترقی کا زمانہ عنقریب آنے والا ہے۔کہنے والے نے کہا ہے دیکھوں گا کس طرح جماعت ترقی کرتی ہے مگر میں بھی دیکھونگا میرے خدا کی بات پوری ہوتی ہے یا اس شخص کی۔اس فتنہ میں کچھ اور لوگ مرد عورتیں بھی شامل ہیں۔میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا۔اگر وہ باز نہ آئے تو ان کا اخراج بھی جماعت سے ضروری ہو گا مگر میں انہیں موقع دیتا ہوں کہ وہ اپنے نفس