انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 83

۸۳ آپ لوگوں نے سن لی ہے باقیوں کو بھی اسی پر قیاس کر لیا جائے۔ہمارے ذریعہ خدا تعالی نے ان لوگوں پر ایسا فضل کیا ہے کہ آریہ انہیں دانے بھی دیتے ہیں اور ہاتھ بھی جوڑتے ہیں مگر وہ انکار کرتے ہیں اور روز بروز اسلام سے اپنا تعلق مضبوط کر رہے ہیں۔اس سال خداتعالی نے دو رسالے جاری کرنے کی توفیق دی تھی جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنا کام کیا ہے۔ان میں سے ایک تو انگریزی کا ’’سن رائز" ہے اور دوسرا’’ مصباح‘‘ عورتوں کا اخبار۔سن رائز کے خلاف مجلس مشاورت میں مشورہ دیا گیا تھا لیکن حالات نے مجبور کیا کہ باوجود اس مشورہ کے اسے جاری کیا جائے۔اس کے پندرہ سو خریدار ہو چکے ہیں ایک سال کے لحاظ سے یہ اچھی کامیابی ہے گو اخراجات کے لحاظ سے کافی نہیں ہے کیونکہ اس کی قیمت دوروپے اور طلباء سے ایک روپیہ ہے اس کی اشاعت بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔مصباح عورتوں کا اخبار ہے اس کے متعلق مردوں میں کچھ کہنا تو بے فائدہ ہے مگر پھر بھی جو مرد چاہیں کہ اپنی مستورات کو اس سے فائدہ پہنچائیں وہ خریدار بن سکتے ہیں۔اس میں کئی عورتوں کے مضامین شائع ہوئے ہیں جو کئی مردوں کے مضامین سے بڑھ گئے ہیں اور ایک دوست تو کہہ رہے تھے کہ عورتیں سب کاموں پر حاوی ہو رہی ہیں ہم کیا کام کریں گے۔میں نے کہا مرد کوئی کام کریں یا نہ کریں عورتوں کو ترقی کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔اس اخبار کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ عورتوں نے بہت ترقی کی ہے اور جلد جلد آگے قدم بڑھارہی ہیں۔گو اس دفعہ جلسہ میں انہوں نے اتنا شور مچایا کہ مجھے کہنا پڑا جس کا بچہ روئے وہ فوراً باہر چلی جائے اس طرح آدھی کے قریب عورتوں کو جلسہ گاہ سے باہر جانا پڑا۔مردوں کو چاہئے کہ عورتوں کو جلسہ پر لانے سے قبل ان سے اقرارلے لیا کریں کہ جب بچہ روئے وہ جلسہ سے باہر آجائیں گی۔اب تو یہ صورت ہوتی ہے کہ چار پانچ سو بچوں کے رونے اور شور مچانے سے عورتوں کے جلسہ میں اتنی تقریر یں ہو رہی ہوتی ہیں کہ لیکچرار کے لئے بولنا ناممکن ہوتا ہے پس مردوں کو چاہے عورتوں کو سمجھائیں کہ جس وقت بچہ رونے لگے اسے لے کر چپ چاپ جلسہ سے باہر آجائیں۔اس سال خاص خاص لوگوں میں خط و کتابت کے ذریعہ تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا گیا۔اگرچہ افسوس ہے کہ متعلقہ صیغہ اس طرف پوری توجہ نہیں دے سکا مگر پھر بھی کئی ایسے لوگ جو پروفیسر ہیں اور عالم سمجھے جاتے ہیں ان سے خط و کتابت کی گئی ایسے لوگوں کی تعداد سَو کے قریب قریب ہے۔میرا منشاء ہے کہ اس سلسلہ کو وسیع کیا جائے اور اہل علم اور سمجھدار لوگوں تک اسلام کی